بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسپین کا تاریخی امیگریشن منصوبہ، 10 لاکھ سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن نے درخواستیں دے دیں

اسپین (Spain)کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے منصوبے کے تحت 10 لاکھ سے زائد افراد نے درخواستیں جمع کرا دی ہیں، جو حکومتی توقعات سے کہیں زیادہ ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپ کے کئی ممالک جہاں غیر قانونی ہجرت کے خلاف سخت پالیسیاں اختیار کی جا رہی ہیں، وہیں اسپین نے غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے خصوصی اسکیم متعارف کرائی ہے۔

حکومت کے مطابق درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ منگل تھی اور اس دوران مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔

رپورٹس کے مطابق جب وزیر اعظم پیدرو سانچیز کی بائیں بازو کی حکومت نے اپریل میں اس منصوبے کا آغاز کیا تھا تو اندازہ لگایا گیا تھا کہ اس سے تقریباً 5 لاکھ افراد مستفید ہوں گے، جن میں بڑی تعداد لاطینی امریکی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی تھی۔ تاہم درخواستوں کی تعداد توقعات سے دوگنا سے بھی زیادہ رہی۔

مزیدپڑھیں:بھارتی ریاست گجرات میں مساجد اورمزارات مسمار، مودی حکومت مسلمان مخالف ایجنڈے پرقائم

میڈرڈ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیدرو سانچیز نے کہا کہ 10 لاکھ سے زائد درخواستوں کا موصول ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بہت سے افراد قانونی شناخت اور بنیادی حقوق کے حصول کے منتظر تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی انسان کو شناخت اور قانونی حیثیت کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو اس کا نقصان صرف اس فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے اور ملک کو ہوتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد تارکین وطن کو بہتر مستقبل فراہم کرنا اور اسپین کو انسانی حقوق کے احترام کرنے والے ملک کے طور پر مزید مضبوط بنانا ہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اسپین کو اپنی عمر رسیدہ آبادی، دیہی علاقوں میں آبادی کی کمی، معیشت، لیبر مارکیٹ، فلاحی نظام اور پنشن کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے تارکین وطن کی ضرورت ہے۔

تاہم ہسپانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ درخواست جمع کرانے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام درخواست گزاروں کو قانونی حیثیت مل جائے گی۔ درخواست دہندگان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں اور وہ یکم جنوری سے قبل کم از کم مسلسل پانچ ماہ اسپین میں مقیم رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اسپین کی یہ پالیسی یورپ میں امیگریشن کے حوالے سے جاری بحث کو مزید تیز کر سکتی ہے، کیونکہ متعدد یورپی ممالک اس وقت امیگریشن قوانین کو سخت بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ اسپین نسبتاً نرم اور انسانی بنیادوں پر مبنی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔