بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ژوب سانحہ، ذمہ داروں کا تعین اور ٹرانسپورٹ نظام میں اصلاحات ناگزیر: سینیٹر محمد عبدالقادر

اسلام آباد،: چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر(Senator Abdul Qadir) نے بلوچستان کے ضلع شیرانی کے علاقے دانہ سر کے قریب پیش آنے والے المناک بس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افسوسناک سانحہ پورے ملک کے لیے باعثِ صدمہ ہے۔

اس حادثے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق جبکہ 16 سے زائد شدید زخمی ہوئے، اس المناک واقعے نے ٹرانسپورٹ کے نظام، قومی شاہراہوں کی حالت، مسافر گاڑیوں کی فٹنس، ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ایسے حادثات نظام کی خامیوں کے عکاس جن کا فوری تدارک ناگزیر ہے۔شفاف، غیرجانبدار اور فوری تحقیقات کرائی جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حادثہ ڈرائیور کی غفلت، گاڑی کی تکنیکی خرابی، سڑک کی خستہ حالی یا انتظامی غفلت کے باعث پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے اور ذمہ دار افراد و اداروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور بلوچستان حکومت متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت کو یقینی بنائیں۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کو فوری اور مناسب مالی معاوضہ دیا جائے جبکہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات، ادویات، خون، ماہر ڈاکٹروں کی خدمات اور تمام ضروری علاج بلا معاوضہ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ علاج میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر ناقابلِ قبول ہوگی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ یہ سانحہ بلوچستان کے سرکاری صحت کے نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔

صوبے کے ضلع اور تحصیل سطح کے ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات، ٹراما سینٹرز، ایمبولینس نیٹ ورک، ضروری ادویات اور ماہر طبی عملے کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ سرکاری ہسپتالوں کو جدید طبی آلات، تربیت یافتہ عملے اور ہنگامی طبی سہولیات سے فوری طور پر آراستہ کرے تاکہ عوام کو علاج کی خاطر دوسرے صوبوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو قومی شاہراہوں پر ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد، مسافر گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس جانچ، اوورلوڈنگ کے خاتمے، ڈرائیوروں کی پیشہ ورانہ تربیت، رفتار کی مؤثر نگرانی اور سڑکوں کی بروقت مرمت کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔

مزید پڑھیں:لاہور زیادتی کیس میں نیا موڑ، غیر ملکی خواتین کو کرپٹو بزنس کے جھانسے بلانے کا انکشاف

محفوظ سفری نظام ہی قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کی ضمانت دے سکتا ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو اس نوعیت کے دلخراش حادثات بار بار قومی المیوں کو جنم دیتے رہیں گے۔ انسانی جانوں کا تحفظ صرف تعزیتی بیانات سے نہیں بلکہ مؤثر قانون سازی، سخت نگرانی، جوابدہی اور عملی اقدامات سے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔