وفاقی وزیر پاور سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت میں وزارتِ توانائی (power division) نے پاکستان کی سب سے بڑی اور مشکل بجلی تقسیم کار کمپنی ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کی مالی اور انتظامی کارکردگی میں نمایاں بہتری یقینی بنائی ہے۔ مالی سال 2023-24 میں 36 ارب روپے کے خسارے کا سامنا کرنے والی میپکو نے مالی سال 2025-26 کا اختتام 1.05 ارب روپے کے منافع کے ساتھ کیا، جو کہ صرف دو برس کے دوران 37 ارب روپے سے زائد کے مالیاتی ٹرن اراؤنڈ کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ کامیابی کسی وقتی اقدام کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل، منظم اور پائیدار اصلاحاتی عمل کا ثمر ہے۔ اسی عرصے میں لائن لاسز 15.2 فیصد سے کم ہو کر 11.9 فیصد رہ گئے، جبکہ ریکوری کی شرح 98.6 فیصد سے بڑھ کر 100.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار مؤثر بلنگ، بجلی چوری کی روک تھام اور صارفین کے اعتماد میں اضافے کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔
میپکو کی یہ کامیابی جامع اور مربوط اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے، جن میں روزمرہ کی مداخلت سے آزاد اور خودمختار بورڈ آف ڈائریکٹرز کا قیام، وزارت کی جانب سے مسلسل پالیسی رہنمائی اور مؤثر کارکردگی کی نگرانی، تقسیمی نظام کی آٹومیشن اور میٹرائزیشن، اور صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ شامل ہے۔ یہ اصلاحاتی ماڈل وقتی اور غیر مربوط مداخلت کی بجائے ادارہ جاتی اصلاحات، مؤثر طرزِ حکمرانی اور احتساب پر مبنی انتظامی نظام کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔
مزیدپڑھیں:گرمی سے نجات کی امید، بارش کی نوید آ گئی
وزارتِ توانائی کا مؤقف ہے کہ میپکو کی یہ کامیابی محض ایک منفرد مثال نہیں بلکہ ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے۔ آزادانہ فیصلہ سازی ، شفافیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی پر مشتمل یہی اصلاحاتی ماڈل دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں بھی نافذ ہے، جوکہ گردشی قرضے کے مسئلے پر قابو پانے اور پاور سیکٹر کو پائیدار مالی استحکام اور دیرپا ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا موجب بنے گا۔








