بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران کا بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی جانب سے ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا کہ بحری اور فضائی فورس نے مشترکہ آپریشن کے دوران بحرین اور کویت میں امریکی فوج کی 85 اہم تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جبکہ ایک امریکی ایم کیو-9 (MQ-9) ڈرون کو بھی مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے منگل کو ایران کے مختلف علاقوں میں ایک نئی فضائی کارروائی کرتے ہوئے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق حملوں کا مقصد ایران پر “بھاری قیمت” عائد کرنا تھا۔

امریکی فوج کے مطابق کارروائی کے دوران پاسداران انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں، اینٹی شپ کروز میزائلوں اور ڈرون لانچنگ سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا تاکہ تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی ایرانی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے بدھ کی صبح جنوبی ایران کے اہم تیل بردار جزیرے خارگ (Kharg Island)، جزیرہ قشم (Qeshm Island)، بندر عباس (Bandar Abbas) اور سیرک (Sirik) میں دھماکوں کی اطلاعات دیں۔ رپورٹوں کے مطابق سیرک کی ایک تجارتی بندرگاہ پر دشمن کے ایک گولے کے ٹکڑے لگنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے، تاہم کسی شہری کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔

ایرانی ذرائع کے مطابق سیرک اور بندر عباس کی ماہی گیری کی بندرگاہوں کو بھی نقصان پہنچا اور کئی ماہی گیری کی کشتیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے خارگ جزیرے پر بھی کئی دھماکوں کی تصدیق کی، تاہم نقصان یا جانی خسارے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

مزیدپڑھیں:سعودی عرب کا ’’پیکیج ویزا‘‘ متعارف، سیاحتی سفر پہلے سے زیادہ آسان بنانے کا اعلان

ادھر ایران کی اعلیٰ فوجی کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر (Khatam al-Anbiya Central Headquarters) نے خبردار کیا ہے کہ امریکی کارروائی کا “فیصلہ کن اور کچل دینے والا جواب” دیا جائے گا اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے معاملات میں کسی بھی امریکی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

امریکی حکام نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حملوں کا ہدف ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائل اور ڈرون لانچنگ مقامات تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ تازہ کشیدگی گزشتہ ماہ ہونے والی عارضی جنگ بندی کے لیے ایک بڑا امتحان بن گئی ہے۔ یہ جنگ بندی فروری میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد طے پائی تھی، تاہم حالیہ واقعات نے اس معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اسی دوران امریکا نے ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا اہم لائسنس بھی منسوخ کر دیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو 17 جولائی تک تمام متعلقہ لین دین ختم کرنے کی مہلت دی ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی اقدام کو جنگ بندی کے فریم ورک کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس کے نتائج کا ذمہ دار ہوگا، جبکہ تہران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دریں اثنا قطر نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے حملے میں قطری مائع قدرتی گیس بردار جہاز الرقیات (Al Rekayyat) کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، جس کے انجن روم میں آگ لگ گئی۔ عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ دوسری جانب عمان کے قریب سعودی پرچم بردار آئل ٹینکر ودیان (Wedyan) کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔

قطر نے واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے ایران کے نائب سفیر کو طلب کیا، جبکہ ایران نے قطری الزامات کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے تمام بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کر رہا ہے، تاہم غیر مربوط بحری راستوں کے استعمال سے تجارتی جہازوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان (Masoud Pezeshkian)، جو آیت اللہ علی خامنہ ای (Ayatollah Ali Khamenei) کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے عراق گئے ہوئے تھے، امریکی حملوں کے بعد فوری طور پر ایران واپس روانہ ہو گئے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی (Abbas Araqchi) نے واضح کیا ہے کہ دھمکیوں کے ماحول میں مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز ممکن نہیں