سینیٹ کی قائمہ کمیٹی (Senate Committee)برائے انسانی حقوق اور صحت کا اجلاس سینیٹر ثمینہ زہری اور عامر ولیدالدین کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں “دی نیشنل پاپولیشن کوآرڈینیشن اینڈ ریپروڈکٹو ہیلتھ بل،2026پر غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا اجلاس میں کہنا تھا کہ نائٹ پارٹیز میں ڈرگز کے استعمال کے بعد نوجوان نسل کی جنسی سرگرمیاں بھی ایچ آئی وی کے بڑھنے کی وجہ ہیں، نائٹ پارٹیز میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر شدید تشویش ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاپولیشن کنٹرول کے معاملے پر وزیراعظم انتہائی سنجیدہ ہیں اور متعدد اجلاس کرچکے ہیں، وفاقی وزیراحسن اقبال، وزیرِخزانہ اور دیگر حکام پر مشتمل کمیٹی باقاعدہ کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کا 82 فیصد فارمولا پاپولیشن کی بنیاد پر ہے، یہ صوبوں کو آبادی بڑھانے کا ایک طرح کا انسینٹیو دے رہا ہے، پڑوسی ممالک میں این ایف سی ایوارڈ میں پاپولیشن کا ویٹیج صرف 17 فیصد ہے، ہمارے ہاں جو صوبہ آبادی کم کرے گا اس کے فنڈز کم ہو جاتے ہیں۔
مزید پرھیں:قومی شناختی کارڈ بلاکیج، لاہورہائیکورٹ سے فیملی کورٹ کا حکم کالعدم قرار
وزیر صحت نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیرخزانہ کی کاوشوں سےموجودہ بجٹ میں مانع حمل ادویات پرٹیکسز زیرو کردیے، ٹیکسز زیرو اور مانع حمل وسائل کی آسان دستیابی سے آبادی میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ تک کمی متوقع ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا پاکستان میں سالانہ نیو بورن بچوں کی پیدائش کی تعداد 67 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔








