ساہیوال: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک ہڑپہ میں کروڑوں روپے مالیت کے سونے کے زیورات کی مبینہ خردبرد کے مقدمے میں نامزد ایک بینک افسر کو گرفتار (Bank Officer Arrested)کر لیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم نے بینک صارفین کے امانتاً جمع کرائے گئے طلائی زیورات کو مبینہ طور پر جعلی زیورات سے تبدیل کیا، جس کے باعث سرکاری خزانے کو ایک کروڑ 93 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔
دیگر ملزمان میں دو خواتین سمیت بینک مینجیر امانت علی، کیشیئر، 2 سیکیورٹی گارڈز، نائب قاصد، اور بینک کا سنیارا شامل ہیں۔
یہ معاملہ گزشتہ برس اس وقت منظرعام پر آیا جب صارفین نے بینک سے لیا گیا قرض واپس کرنے کے بعد اپنے رہن رکھوائے گئے زیورات واپس مانگے۔
تاہم انہیں مبینہ طور پر اصل سونے کے بجائے جعلی زیورات دیے گئے۔ بعد ازاں ان کی شکایت پر بینک انتظامیہ اور ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اب تک 40 سے زائد متاثرین سامنے آ چکے ہیں، جبکہ بینک کے متعدد ملازمین اور دیگر افراد اس مبینہ گینگ میں ملوث پائے گئے ہیں۔
ابتدائی طور پر ایف آئی اے نے نقصان کا تخمینہ 16 کروڑ روپے لگایا گیا تھا، تاہم تحقیقات میں اس کے 50 کروڑ روپے تک پہنچنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:تمام شاہرائوں کے ٹول پلازوں پر نئی فیس نافذ، مسافروں پر اضافی مالی بوجھ
ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ انہیں یہ کیس حال ہی میں ہڑپہ پولیس سے ٹرانسفر ہوا ہے اور وہ اس فراڈ میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔








