امریکی سینیٹرز نے روس کے خلاف پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ پیش کر دیا ہے، جس میں روسی تیل(Russian Oil) اور گیس درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً چین اور بھارت، کے لیے مجوزہ سخت ٹیرف میں نرمی کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ میں منگل کو روس پر نئی پابندیوں کے بل کا نظرثانی شدہ مسودہ پیش کیا گیا، جسے مرحوم لنزے گراہم کی اہم کاوش قرار دیا جا رہا ہے۔
بل کے نئے مسودے میں روسی تیل اور قدرتی گیس خریدنے والے ممالک پر مجوزہ 500 فیصد یکساں ٹیرف کی تجویز نرم کرتے ہوئے دنیا کے پانچ بڑے خریداروں کے لیے زیادہ سے زیادہ 100 فیصد ٹیرف کی حد مقرر کی گئی ہے۔
بل کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے تحت روسی حکام پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ چین اور بھارت جیسے ممالک پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ روسی توانائی پر اپنا انحصار کم کریں۔
مرحوم سینیٹر لنزے گراہم نے اپنی وفات سے ایک روز قبل یوکرین کے دورے کے دوران کہا تھا کہ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس بل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ بل ایک سال سے زائد عرصہ قبل متعارف کرایا گیا تھا۔
سینیٹ کے معاونین کے مطابق اس وقت بل کے 26 سینیٹرز شریکِ سرپرست (کو اسپانسر) ہیں اور مزید ارکان کی حمایت بھی متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کی منظوری کے امکانات روشن ہیں۔
نظرثانی شدہ بل اپریل 2025 میں لنزے گراہم اور ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل کی جانب سے پیش کیے گئے اصل مسودے سے مختلف ہے۔
نئے مسودے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ وہ ممالک جو روس کی قدرتی گیس کی برآمدات کا 15 فیصد سے کم درآمد کرتے ہیں اور اپنی درآمدات کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں، انہیں پابندیوں سے استثنا دیا جا سکے گا۔ اس رعایت سے جاپان، فرانس، ہنگری اور بیلجیئم مستفید ہو سکتے ہیں۔
سینیٹ کے معاونین کے مطابق روسی خام تیل کے پانچ بڑے خریدار چین، بھارت، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان ہیں، جبکہ روسی قدرتی گیس درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں چین، فرانس، جاپان، ہنگری اور بیلجیئم شامل ہیں۔
بل میں روس کے نام نہاد ”شیڈو فلیٹ“ یعنی ایسے آئل ٹینکروں پر بھی پابندیوں کی تجویز دی گئی ہے جو مغربی بحری خدمات پر انحصار نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ روس کے مرکزی بینک، دیگر مالیاتی اداروں اور یامال ایل این جی اور آرکٹک ایل این جی منصوبوں سمیت بڑے سرکاری توانائی منصوبوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا جائے گا۔
بل میں ایک شق یہ بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت اگر امریکی صدر اسے قومی مفاد میں سمجھیں تو وہ ان پابندیوں کو معطل کرنے کا اختیار رکھیں گے۔
بل کی بعض شقوں میں نرمی سے متعلق سوال پر سینیٹ کے ایک معاون نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ہی اس مسودے پر اتفاق ممکن ہو سکا۔ ان کے مطابق یہی وہ بل ہے جس پر تمام متعلقہ فریق متفق ہیں اور جس کے منظور ہونے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں ایران اور حزب اللہ کے خلاف پابندیاں بھی شامل کی جا سکتی ہیں، اور اگر ایسا ہوا تو یہ ایک بڑا قدم ہوگا۔
تاہم ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے کہا کہ بل میں نئے اہداف شامل کرنے کے بجائے موجودہ مسودے کو ہی آگے بڑھایا جانا چاہیے، کیونکہ صدر پہلے ہی اس کی حمایت کر چکے ہیں۔
ایک اور سینیٹ معاون نے بتایا کہ بل میں پہلے ہی ایسی شق موجود ہے جس کے تحت روسی دفاعی صنعت کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک، جن میں ایران بھی شامل ہو سکتا ہے، پابندیوں اور ٹیرف کی زد میں آ سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ بل کانگریس سے منظور ہو کر قانون بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مرحوم لنزے گراہم کا مشن تھا اور وہ اس بل کی منظوری کے لیے سب سے زیادہ پُرعزم تھے۔









