بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ویسٹ انڈین عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

بارباڈوس: عالمی کرکٹ کے عظیم ترین آل راؤنڈرز میں شمار ہونے والے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ سر گیری سوبرز 89 برس کی عمر میں اپنے آبائی گھر بارباڈوس میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال سے عالمی کرکٹ ایک ایسی غیر معمولی شخصیت سے محروم ہوگئی جسے کھیل کی تاریخ کے مکمل ترین کرکٹرز میں شمار کیا جاتا ہے۔

سر گیری سوبرز نے 1954 سے 1974 تک ویسٹ انڈیز(west Indies) کی نمائندگی کرتے ہوئے 93 ٹیسٹ میچز میں 8,032 رنز بنائے، جن کی اوسط 57.78 رہی، جبکہ انہوں نے235 وکٹیں ھی حاصل کیں۔ وہ نہ صرف شاندار بلے باز تھے بلکہ بائیں ہاتھ سے تیز اور اسپن بولنگ کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتے تھے، اس کے علاوہ بہترین فیلڈر کے طور پر بھی ان کی مثال دی جاتی تھی۔

آسٹریلیا کے عظیم کرکٹرسر ڈونلڈ بریڈمین نے انہیں کبھی “فائیو اِن ون کرکٹر قرار دیا تھا، کیونکہ وہ کھیل کے ہر شعبے میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔

سر گیری سوبرز نے 1958 میں پاکستان کے خلاف سبینا پارک میں365 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جو 36 برس تک برقرار رہا۔ بعد ازاں 1994 یں ویسٹ انڈیز ہی کےبرائن لارا نے یہ ریکارڈ توڑا۔

انہوں نے 1968 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کی ایک اننگز میں مسلسل چھ گیندوں پر چھ چھکے لگا کر بھی تاریخ رقم کی، جو کرکٹ کی دنیا کا ایک یادگار کارنامہ تصور کیا جاتا ہے۔

اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں سر گیری سوبرز نے 383 میچز کھیلتے ہوئے 28,314 رنز اسکور کیے اور 1,043 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کی ہمہ جہت صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

کرکٹ کے لیے غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1975 میں نائٹ ہڈ سے نوازا گیا، جبکہ2000 میں وِزڈن نے انہیں صدی کے پانچ عظیم ترین کرکٹرز میں شامل کیا۔ ان کے اعزاز میں آئی سی سی کے سالانہ بہترین مرد کرکٹر کے لیے دیا جانے والا “سر گارفیلڈ سوبرز ایوارڈ بھی ان ہی کے نام سے منسوب ہے۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے سر گیری سوبرز کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ **”ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچ گئی، لیکن سر گیری سوبرز ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔”

مزید پڑھیں:کشمیر تنازع کے حل کیلئے ’ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن‘ قائمکیا جائے، بلاول

سر گیری سوبرز کی وفات پر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں، سابق اور موجودہ کھلاڑیوں اور مداحوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔