بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان، کویت دفاعی تعاون دائرہ کار کو بڑھانے پر مذاکرات جاری، رائٹرز رپورٹ

کویت پاکستان کے ساتھ سعودی عرب جیسا معاہدہ چاہتا ہے، کویت پاکستانی فوج، جنگی طیاروں اور ڈرونز کی تعیناتی کا خواہاں، بدلے میں کویت توانائی، سرمایہ کاری اور معاشی شعبوں میں مواقع فراہم کرے گا،

اسلام آباد/ کویت ، رائٹرز ذرائع کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے دائرہ کار کو بڑھانے پر مذاکرات جاری ہیں، جس کے تحت کویت پاکستان کے ساتھ نئے دفاعی معاہدے کے تحت فوجی دستوں، جنگی طیاروں اور ڈرونز کی ممکنہ تعیناتی پر بات چیت کر رہا ہے۔ مجوزہ معاہدے کے دائرہ کار اور عملی امکانات کا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں۔

دفاعی معاہدے کے بدلے کویت کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون، سرمایہ کاری اور دیگر معاشی مواقع کا خواہاں ہے۔ پانچ باخبر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

رائٹرز نے گزشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ اسلام آباد میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ گزشتہ سال سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا باہمی دفاعی معاہدہ پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ میں الجھا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران سے منسلک حوثی تحریک کی جانب سے پیر کے روز سعودی عرب پر حملے کے بعد پاکستان نے ایران کو پیغام دیا کہ مملکت پر کسی بھی حملے کو پاکستان اپنے خلاف حملہ تصور کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان 2023 سے فوجی تربیت اور مشترکہ مشقوں پر مشتمل محدود دفاعی تعاون موجود ہے، تاہم اب کویت پاکستان کے ساتھ سعودی عرب جیسے دفاعی معاہدے کا خواہاں ہے۔

ایک پاکستانی سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ کویت کی خواہش ہے کہ پاکستان ہزاروں فوجی، جنگی طیارے، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور دیگر دفاعی سہولیات فراہم کرے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس حد تک جانے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ اس کا دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط قریبی تعلقات کا نتیجہ ہے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم آزادکشمیر کے اسکواڈ کی گاڑی کھائی میں جاگری، پولیس اہلکار جاں بحق

مذاکرات سے آگاہ ایک پاکستانی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق کویت کی خواہشات کی فہرست میں تقریباً ہر چیز شامل ہے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس مرحلے پر ہم جنگی افواج کی تعیناتی پر نہ غور کر رہے ہیں اور نہ ہی ایسا کر سکتے ہیں۔ رائٹرز نے اس معاملے پر چار پاکستانی اور ایک کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے گفتگو کی، تاہم کسی بھی ذریعے کو باضابطہ طور پر مؤقف دینے کی اجازت نہیں تھی۔ پاکستان کے عسکری شعبۂ تعلقاتِ عامہ اور کویت کی وزارتِ اطلاعات نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔