بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نوجوانوں میں جان لیوا سروائیکل کینسر کیسز میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ

کینسر کی اس قسم کے بارے میں پہلے تصور کیا جاتا تھا کہ اس کا سامنا تمباکو نوشی کے عادی معمر افراد کو ہوتا ہے مگر اب اس حوالے سے ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔

درحقیقت جوان افراد میں سر اور گردن کے کینسر کے کیسز کی شرح میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ایسے افراد میں اس کی تشخیص ہو رہی ہے جو تمباکو نوشی سے ہمیشہ دور رہتے ہیں۔

اس عالمی دن منانے کا مقصد جان لیوا مرض کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے اور ان وجوہات پر روشنی ڈالنا ہے کہ کینسر کی یہ قسم آخر کیوں جوان افراد میں تیزی سے عام ہو رہا ہے اور اس سے بچنا کیسے ممکن ہے۔

ویسے کینسر کا خطرہ بڑھانے والے روایتی عناصر میں تمباکو نوشی اور الکحل قابل ذکر ہیں مگر جنسی امراض کا خطرہ بڑھانے والے ایچ پی وی انفیکشن سے بھی اس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

سر اور گردن کے کینسر میں منہ، حلق، ٹانسلز اور زبان کے کینسر بھی شامل ہیں اور ماہرین کے مطابق تمباکو اور ایچ پی وی سے جڑے منہ کے کینسر کے درمیان فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اگر مرض کی تشخیص جلد ہو جائے تو علاج مؤثر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ایچ پی وی ویکسین سر اور گردن کے کینسر کی مختلف اقسام سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی اور الکحل استمعال کرنے والے افراد کو اکثر سر اور گردن کے کینسر کی اسکریننگ کرانا چاہیے۔

ویکسین کو اگر 9 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کو استعمال کرایا جائے تو انہیں طویل المعیاد بنیادوں پر تحفظ حاصل ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی سے گریز، الکحل سے دوری، منہ کی اچھی صفائی کا خیال رکھنا اور جنسی معاملات میں احتیاط سے ایچ پی وی وائرسز کے پھیلاؤ کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں:قائداعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک، پشاور ہائیکورٹ کی نادرا بورڈ میں پیشی کی ہدایت

اس کینسر کی علامات میں منہ یا مسوڑوں پر سرخ یا سفید رنگ کے دھبے نمودار ہونا، منہ یا زبان میں چھالے یا زخم ہونا جو 2 ہفتوں میں ٹھیک نہ ہو، گردن یا شانوں پر گلٹی بننا جس میں تکلیف نہ ہو، آواز بدل جانا یا گلے کی سوزش 14 دن سے زائد عرصے تک برقرار رہنا، کھانا چبا کر نگلنے میں مشکلات کا سامنا ہونا اور جسمانی وزن میں بغیر کسی وجہ کے کمی آنا قابل ذکر ہیں۔