کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کان حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 32 ہوگئی۔وزیر اعظم نے متاثرہ مزدوروں کے ریسکیو اور ریلیف تک ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق سورینج کوئلہ کان حادثے میں29 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں، مزید 3 لاشوں کی نشاندہی کی گئی ہے ، کان میں پھنسے کان کنوں کی تلاش جاری ہے، امدادی ٹیمیں مشترکہ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔جاں بحق کان کنوں کےلواحقین کوفی کس 5 لاکھ روپے ،زخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا، صوبائی وزیر
صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی مشکل حالات کے باوجود مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور کان میں پھنسے دیگر مزدوروں تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ریسکیو آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے اور امدادی سرگرمیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔
صوبائی وزیر نے حادثے میں جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
مزید پڑھیں:بہتر مستقبل، مراکش سے ہزاروں افراد سپین کی سرحد عبور کر گئے، 9 ہلاک
میر شعیب نوشیروانی کے مطابق حادثے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی، جبکہ کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔









