معروف کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق(Mirwaiz Umar Farooq) نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے مؤقف کو آئینہ دکھاتے ہوئے زور دیا ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی اس کے اخلاقی معیارات اور حقوق کی پاسداری میں مضمر ہوتی ہے، اور کشمیری مہاجرین کے آئینی و بنیادی حقوق کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایک اہم بیان میں میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ ہر حقیقی اور بابرکت تحریک جب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھتی ہے تو اپنے اندر ایک بلند اخلاقی معیار برقرار رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب حقوق کی بات کی جائے تو کچھ بنیادی اور آئینی حقوق ایسے ہوتے ہیں جن سے چشم پوشی ممکن نہیں۔
مزیدپڑھیں:انتظار ختم، اقرا عزیز نے پہلی بار بیٹی صوفیہ کی تصاویر شیئر کر دیں
انہوں نے اس بات پر خصوصی توجہ دلائی کہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں جموں و کشمیر کے لاکھوں مہاجرین اور تارکینِ وطن آباد ہیں، جن کا اصل وطن جموں و کشمیر ہے۔ ان میں سے تقریباً 3 لاکھ کشمیری مہاجرین ایسے ہیں جنہیں باقاعدہ ووٹ کا حق حاصل ہے اور ان کی ایک واضح آئینی حیثیت موجود ہے۔
میر واعظ عمر فاروق کا مزید کہنا تھا کہ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر چکی ہے۔ اس لیے ایسے لاکھوں مہاجرین کی آئینی اور قانونی حیثیت کو نذرِ آتش یا نظر انداز کرنا کسی طور ممکن نہیں۔









