بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جب کھانسی سے ‘کون بنے گا کروڑ پتی’ شو میں لاکھوں پاؤنڈز کا فراڈ ہوا

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ قسمت کے سہارے ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ یا ’ہو وانٹس ٹو بی اے میلینیئر‘ (Who Wants to Be a Millionaire?)جیسے شوز جیتے جا سکتے ہیں تو حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے کیونکہ اگر عین فیصلہ کن لمحے پر کسی کی کھانسی آپ کی رہنمائی کرنے لگے تو پھر صرف ہزاروں نہیں، بلکہ آپ 10 لاکھ پاؤنڈ کا انعام بھی جیت سکتے ہیں۔

سننے میں یہ کسی فلمی کہانی کا حصہ لگتا ہے، مگر برطانیہ کے مقبول کوئز شو ’ہو وانٹس ٹو بی اے میلینیئر‘ میں پیش آنے والا یہ واقعہ حقیقت ہے، جسے آج بھی ٹی وی کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکینڈلز میں شمار کیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر کھانسی کا کوئز شو سے کیا تعلق تھا؟ اس کا جواب جاننے کے لیے اس واقعے پر نظر ڈالنا ہوگی جہاں سوالات کے دوران وقفے وقفے سے سنائی دینے والی ہلکی سی کھانسی بعد میں ایک مبینہ خفیہ اشارہ قرار دی گئی۔

برطانوی فوج کے سابق میجر چارلس اینگرام مشہور کوئز شو ’ہو وانٹس ٹو بی اے میلینیئر‘ میں شریک ہوئے۔ شو کے میزبان کرس ٹیرنٹ نے ان کا استقبال کیا، جبکہ حاضرین میں ان کی اہلیہ ڈیانا اینگرام اور دوست ٹیکوین ویٹاک بھی موجود تھے۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ ڈیانا اینگرام اس سے پہلے بھی اسی پروگرام میں حصہ لے چکی تھیں اور 32 ہزار پاؤنڈ جیتنے میں کامیاب رہی تھیں۔

ابتدائی گفتگو کے بعد چارلس اینگرام سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

مزیدپڑھیں:سرکاری ادائیگیوں کیلئے پے پاک کارڈ لازمی قرار دینے کی تجویز

پروگرام کے اصول کے مطابق ابتدا میں نسبتاً آسان سوالات پوچھے جاتے ہیں اور ہر درست جواب کے ساتھ انعامی رقم بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جیسے جیسے مقابلہ آگے بڑھتا ہے، سوالات بھی زیادہ پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔

چارلس اینگرام نے ابتدائی سوالات کے درست جواب دیے، اگرچہ کئی مواقع پر وہ کافی دیر سوچتے رہے۔ اسی دوران حاضرین میں سے کبھی کبھار کھانسی کی آواز بھی سنائی دیتی رہی، مگر اس وقت کسی نے اسے غیر معمولی نہیں سمجھا۔

وقت گزرتا گیا اور وہ ایک ایک مرحلہ عبور کرتے ہوئے آخری سوال تک پہنچ گئے۔

آخری سوال اور 10 لاکھ پاؤنڈ کا چیک
پروگرام میں تمام سوالات کے جوابات درست دیتے ہوئے چارلس اینگرام آخری اور فیصلہ کن سوال تک پہنچ گئے، جوش اور ولووہ اپنے عروج پر تھا آخری سوال پر آر یا پار کا مرحلہ آچکا تھا، یا تو 10 لاکھ پاؤنڈ یا بڑا نقصان۔ بس اس آخری سوال کا درست جواب 10 لاکھ پاؤنڈ کا مالک بنا سکتا تھا۔سوال تھا، ”ایک کے ساتھ 100 صفر لگانے سے بننے والے عدد کو کیا کہا جاتا ہے؟“

اسکرین پر چار آپشنز ظاہر ہوئے، پہلا آپشن تھا گوگول، دوسرا آپشن تھا میگاٹرون، تیسرا آپشن تھا گیگا بٹ اور چوتھا آپشن تھا نینومول۔

چارلس اینگرام واضح طور پر تذبذب کا شکار تھے۔ وہ بار بار چاروں آپشنز بلند آواز میں دہراتے، کسی ایک پر آتے اور پھر اپنی رائے بدل لیتے۔ اس دوران شو کا روایتی سنسنی خیز پس منظر، موسیقی بھی ماحول کو مزید پرجوش بنا رہی تھی۔ اسی کشمکش کے دوران ایک مرتبہ پھر حاضرین میں سے کھانسی کی آواز سنائی دی، لیکن اس وقت بھی کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔

ساڑھے نو منٹ کا سنسنی خیز لمحہ
آخری جواب دینے سے پہلے میزبان نے وہ چیک بھی تیار کر رکھا تھا جس کی رقم چارلس اس مرحلے تک یقینی طور پر جیت چکے تھے۔ اگر آخری جواب غلط ہوتا تو انہیں اسی رقم پر اکتفا کرنا پڑتا۔

تقریباً ساڑھے نو منٹ تک جاری رہنے والی سوچ بچار کے بعد چارلس اینگرام نے بالآخر گوگول کو اپنا حتمی جواب قرار دے کر لاک کر دیا اور اس کے ساتھ ہی شو میں سسپنس اپنے عروج پر پہنچ گیا۔

میزبان کا انداز دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے جواب غلط ہو چکا ہو۔ حاضرین بھی خاموش تھے جبکہ ڈیانا اینگرام کے چہرے پر بھی پریشانی نمایاں تھی۔

چند لمحوں بعد کرس ٹیرنٹ نے چارلس سے پہلے والا چیک واپس لیا، اسے سب کے سامنے پھاڑ دیا اور مسکراتے ہوئے اعلان کیا کہ انہیں اب اس کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ 10 لاکھ پاؤنڈ جیت چکے ہیں۔

اس اعلان کے ساتھ ہی اسٹوڈیو خوشی سے گونج اٹھا، چارلس اور ان کی اہلیہ نے جشن منایا اور انہیں ایک نیا چیک دے دیا گیا، جس کی رقم چند روز بعد ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونا تھی، لیکن پھر کیا ہوا؟ ایک معمولی شک نے سب کچھ بدل دیا۔

پروگرام ختم ہونے کے بعد پروڈکشن ٹیم کے ایک رکن کو مقابلے کے دوران سنائی دینے والی ایک کھانسی کی آواز مشکوک محسوس ہوئی۔

اس نے ریکارڈ کیا ہوا پروگرام دوبارہ دیکھا اور اس کا شک یقین میں بدل گیا کیونکہ چارلس اینگرام جب بھی درست جواب والے آپشن پر پہنچتے، عین اسی لمحے حاضرین میں سے کھانسی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اس بات کے انکشاف کے بعد پوری ٹیم نے غیر ایڈٹ شدہ ریکارڈنگ کا تفصیلی جائزہ لیا اور معاملہ قانونی کارروائی تک جا پہنچا۔

اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران پروگرام انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ چارلس اینگرام، ان کی اہلیہ ڈیانا اور دوست ٹیکوین ویٹاک پہلے سے ایک منصوبہ بنا کر آئے تھے۔ الزام کے مطابق چارلس جان بوجھ کر تمام آپشنز ایک ایک کرکے بلند آواز میں پڑھتے تھے اور جب وہ صحیح جواب پر پہنچتے تو حاضرین میں سے کھانسی کے ذریعے درست جواب پر انہیں اشارہ دیا جاتا۔

اسی مبینہ طریقہ کار کی مدد سے وہ مرحلہ وار مشکل سوالات کے درست جواب دیتے ہوئے ایک ملین پاؤنڈ تک پہنچے۔

تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چارلس اینگرام، ان کی اہلیہ ڈیانا اینگرام اور ٹیکوین ویٹاک کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ چلایا گیا اور 10 لاکھ پاؤنڈ کی انعامی رقم کی ادائیگی روک دی گئی۔

دوسری جانب چارلس اینگرام نے ابتدا سے آخر تک خود پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا۔ عدالت میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی قسم کی دھوکہ دہی نہیں کی بلکہ کئی سوالوں کے جواب اندازے اور تّکے کی بنیاد پر دیے تھے، اس لیے انہیں مجرم قرار دینا درست نہیں۔

اگرچہ 2001 کے اس اسکینڈل کو برسوں گزر چکے ہیں، لیکن یہ آج بھی ٹی وی کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل قرار دیا جاتا ہے۔