ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھارتی مالی سپورٹ میسر ہے، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کو بھی بھارت مالی امداد دے رہا ہے۔
ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے،وہاں ہمارے بہن بھائی رہتے ہیں مگر افغان طالبان کو انتخاب کرنا ہوگا کہ پاکستان سے اچھے تعلقات یا دہشت گردوں کی حمایت چاہتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے دہشت گرد گروہ پورے خطے میں موجود ہیں، بدخشاں سمیت کئی جگہوں پر افغان طالبان اور حزب اختلاف میں جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، امید ہے افغانستان کے ڈونرز یقینی بنائیں گے کہ ان کی امداد دہشتگردی میں استعمال نہ ہو۔
طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان آزادکشمیر اسمبلی کے انتخابات پر بھارتی بیانات کو مسترد کرتا ہے، آزادکشمیر کے جمہوری عمل پر بھارت تبصرہ کرنے کی اخلاقی یا قانونی پوزیشن نہیں۔ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملنا چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت پر بات کررہی ہے، ترجمان اقوام متحدہ کا بیان پاکستان کے مؤقف اور عین قانون کے مطابق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دفاعی برامدات بھی قومی برآمدات کا حصہ ہیں، کوئی نجی کمپنی کچھ بنا کر برآمد کرے تو ٹیکس و دیگر آمدن خزانے میں آتی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا امریکا کے ساتھ اچھا انٹیلی جنس تعاون موجود ہے، پاک امریکا انٹیلی جنس تعاون کی موجودہ سطح اطمینان بخش ہے، پاکستان خلیج میں تناؤ کم کرنے کیلئے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بحران میں برادر ممالک نے مشترکہ سہولت کاری کا کردار ادا کیا، سلطنت عمان نے آبنائے ہرمز کے تنازع میں مثبت اور قابل تحسین کردار ادا کیا، پاکستان امن کیلئے برادر ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی تعاون جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں:بسیمہ میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شام 6 بجے تا صبح 11 بجے تک کرفیو نافذ
ان کا مزید کہنا تھا کہ بنگلادیش کی حالیہ اندرونی پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے، پاکستان دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، بھارت کی جانب سے دیا گیا بیان بھارت اور بنگلادیش کا باہمی معاملہ ہے، بنگلادیش کے عوام اپنے معاملات آزادانہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔









