بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

لیتھیم کو شکست دینے والی سوڈیم آئن بیٹری میں کیا خاص ہے، گاڑیوں میں استعمال کیوں نہیں کر سکتے

توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی میں سوڈیم آئن بیٹریاں تیزی سے لیتھیم آئن بیٹریوں کے متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔ دونوں بیٹریاں بنیادی طور پر آئنز کی حرکت کے ذریعے توانائی ذخیرہ اور فراہم کرتی ہیں، تاہم ان کے خام مال، توانائی کی کثافت، قیمت، کارکردگی اور استعمال کے شعبوں میں نمایاں فرق ہے۔ سوڈیم آئن بیٹری انتہائی سستی ہے اور تکنیکی اعتبار سے یہ لیڈ ایسڈ بیٹری سے بھی سستی پڑے گی۔

لیکن کچھ ایسے استعمال ہیں جہاں سوڈیم آئن بیٹری ناکام ثابت ہوتی ہے۔

گاڑیوں میں سوڈیم ناکام
دونوں ٹیکنالوجیز میں سب سے نمایاں فرق توانائی کی کثافت کا ہے یعنی کم سے کم جگہ پر زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کا۔ لیتھیم آئن بیٹریاں کم وزن اور کم جگہ میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرتی ہیں۔ عام طور پر لیتھیم آئن بیٹریوں کی توانائی کی کثافت تقریباً 150 سے 260 واٹ آور فی کلوگرام تک ہو سکتی ہے، یعنی ایک کلوواٹ کی بیٹری چار کلوگرام وزنی ہوگی۔ جبکہ سوڈیم آئن بیٹریوں میں یہ تقریباً 100 سے 160 واٹ آور فی کلوگرام رہتی ہے۔ یعنی ایک کلو واٹ کی بیٹری ساڑھے چھ کلو وزنی ہوگی۔

اسی وجہ سے الیکٹرک گاڑیوں، موبائل فونز اور لیپ ٹاپس جیسے آلات میں لیتھیم آئن بیٹریوں کو اب بھی واضح برتری حاصل ہے۔ جہاں وزن اور حجم اہم نہ ہوں، جیسے گھریلو سولر سسٹمز، وہاں سوڈیم آئن کی نسبتاً کم توانائی کثافت اتنی بڑی رکاوٹ نہیں بنتی۔

قیمت میں سوڈیم آئن کا فائدہ

سوڈیم آئن ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کشش اس کی ممکنہ کم قیمت ہے۔ لیتھیم بیٹریوں میں استعمال ہونے والے خام مال کی قیمت اور عالمی سپلائی چین پر انحصار پیداواری لاگت کو متاثر کرتا ہے، جبکہ سوڈیم نسبتاً وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ سوڈیم بیٹری نمک سے تیار کی جاتی ہے اور سمندری نمک ہر جگہ دستیاب ہے۔

اسی وجہ سے سوڈیم آئن بیٹریاں بڑے پیمانے پر پیداوار بڑھنے کے ساتھ لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں زیادہ سستا آپشن بن سکتی ہیں۔ خاص طور پر گھریلو سولر اور توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں میں جہاں بڑی مقدار میں بیٹری اسٹوریج درکار ہوتا ہے، یہ فرق اہم ہو سکتا ہے۔

سوڈیم بیٹری عام ہوگئی تو یہ لیڈ ایسڈ بیٹری سے بھی سستی پڑے گی۔

عمر کے معاملے میں دونوں قریب
ایل ایف پی جیسی لیتھیم آئن بیٹریاں عموماً طویل عرصے تک چلتی ہیں اور ہزاروں چارجنگ سائیکلز برداشت کر سکتی ہیں۔ جدید سوڈیم آئن بیٹریاں بھی ہزاروں سائیکلز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اس ٹیکنالوجی میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔

اس لیے گھریلو سولر سسٹم میں جہاں بیٹری کو روزانہ چارج اور ڈسچارج کیا جاتا ہے، سوڈیم آئن مستقبل میں لیتھیم کے قریب کارکردگی فراہم کر سکتی ہے۔

چارجنگ اور درجہ حرارت میں سوڈیم کی صلاحیت
سوڈیم آئن بیٹریوں کی ایک اہم خوبی مختلف درجہ حرارتوں میں کارکردگی ہے۔ بعض سوڈیم آئن ٹیکنالوجیز کم درجہ حرارت میں لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔

مزیدپڑھیں:پیپلز پارٹی وفاق میں اسی تنخواہ پر کام کرے گی: رانا ثنااللہ

چارجنگ کی رفتار بھی سوڈیم آئن بیٹریوں کا ایک ممکنہ فائدہ ہے، تاہم اصل کارکردگی بیٹری کے کیمیکل، ڈیزائن اور چارجر پر منحصر ہوتی ہے۔ اس لیے ہر سوڈیم بیٹری کے لیے انتہائی تیز چارجنگ کا دعویٰ عمومی اصول کے طور پر نہیں کیا جا سکتا۔

حفاظت میں دونوں ٹیکنالوجیز اہم پیش رفت کر چکی ہیں

لیتھیم آئن بیٹریوں میں حفاظت کا انحصار کیمسٹری اور بیٹری مینجمنٹ سسٹم پر ہوتا ہے۔ ایل ایف پی بیٹریاں اپنی نسبتاً بہتر تھرمل استحکام کی وجہ سے توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہیں۔

سوڈیم آئن بیٹریوں میں بھی تھرمل استحکام کے حوالے سے امید افزا خصوصیات پائی جاتی ہیں، لیکن اسے یہ کہنا درست نہیں کہ ہر سوڈیم آئن بیٹری آگ پکڑ ہی نہیں سکتی۔ بیٹری کی حفاظت اس کے کیمیکل، ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور حفاظتی نظام سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔

خام مال کے معاملے میں سوڈیم آگے
لیتھیم کے مقابلے میں سوڈیم زمین پر زیادہ وافر مقدار میں موجود ہے اور سمندری نمک سمیت مختلف ذرائع سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے سوڈیم آئن بیٹریوں کے لیے خام مال کی طویل مدتی دستیابی کا امکان بہتر ہوتا ہے۔

دوسری جانب لیتھیم کی عالمی طلب الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں تیزی سے بڑھی ہے، جس نے اس کی کان کنی، قیمت اور سپلائی چین کو اہم صنعتی مسئلہ بنا دیا ہے۔

پھر کون سی بیٹری بہتر ہے؟

اگر مقصد زیادہ سے زیادہ توانائی کم وزن اور کم حجم میں ذخیرہ کرنا ہے تو لیتھیم آئن بیٹری اب بھی واضح طور پر بہتر انتخاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں، موبائل فونز اور لیپ ٹاپس میں لیتھیم کا غلبہ برقرار ہے۔

اگر مقصد گھریلو سولر، یو پی ایس یا اسٹیشنری توانائی ذخیرہ کرنا ہے تو سوڈیم آئن بیٹریاں ایک مضبوط متبادل بن سکتی ہیں۔ کم قیمت، خام مال کی وافر دستیابی اور مناسب سائیکل لائف انہیں ایسے نظاموں کے لیے پرکشش بناتی ہے جہاں بیٹری کا وزن بنیادی مسئلہ نہیں۔

مختصراً، لیتھیم آئن فی الحال کارکردگی اور توانائی کی کثافت میں آگے ہے، جبکہ سوڈیم آئن کم لاگت، خام مال کی دستیابی اور بعض درجہ حرارت کے حالات میں بہتر کارکردگی کے باعث مستقبل کا اہم متبادل بن رہی ہے۔