بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کولمبیا 7.4 شدت کا زلزلہ؛ 47 افراد ہلاک، درجنوں ملبے تلے دبے ہیں

کولمبیا میں 7.4 شدت زلزلےکے شدید جھٹکوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی جس میں متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں اور 100 سے زائد افراد ملبے تلے دب گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق زلزلے کا مرکز صوبہ چوکّو کے علاقے سان ہوزے ڈیل پالمر کے قریب تھا۔ زلزلے کے شدید جھٹکے ملک کے کئی بڑے شہروں میں بھی محسوس کیے گئے، جن میں کیلی، پریرا، مانیسالس اور دارالحکومت بوگوٹا بھی شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان مغربی کولمبیا کے مختلف علاقوں میں ہوا ہے۔ کیلی میں متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ پریرا میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان رپورٹ ہوا۔ مانیسالس میں ایک تاریخی کیتھیڈرل کا ایک حصہ بھی زلزلے کے نتیجے میں منہدم ہوگیا۔

زلزلے کے باعث کئی علاقوں میں شہریوں کو عمارتیں خالی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ مغربی خطے کے متعدد ہوائی اڈوں پر بھی پروازیں عارضی طور پر معطل کردی گئیں تاکہ رن ویز، ٹرمینلز اور دیگر تنصیبات کی سلامتی کا جائزہ لیا جاسکے۔

زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت بوگوٹا تک محسوس کیے گئے، جہاں لوگوں نے احتیاطاً عمارتیں خالی کردیں، تاہم وہاں بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ زلزلے کے جھٹکے پڑوسی ملک ایکواڈور میں بھی محسوس کیے گئے۔

کولمبیا کے حکام نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کردیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں بھیجی گئی ہیں۔ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے جبکہ مختلف شہروں میں عمارتوں، سڑکوں، بجلی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

کولمبیا کے جیولوجیکل حکام کے مطابق یہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ایک ہے۔ ابتدائی زلزلے کے بعد آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں، جس کے باعث حکام نے شہریوں کو مزید جھٹکوں کے خطرے کے پیش نظر احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے اور دور دراز علاقوں میں نقصانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد جانی و مالی نقصان کی حتمی تصویر سامنے آئے گی۔

میزید پڑھیں:ورلڈکپ شیئرز کی تجویز، 3 بڑی فٹبال کنفیڈریشنز کا فیفا پر سخت اعتراض، آزاد تحقیقات کا مطالبہ

ریسکیو ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ زلزلے میں 47 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ درجن سے زائد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ امدادی کاموں کے درمیان لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔