بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

فیلڈ مارشل عاصم منیر سےناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات، سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

راولپنڈی: ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں وفد نے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سیکیورٹی اور پاکستان و ناروے کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی امن اور علاقائی استحکام کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

ناروے کے وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کی مسلح افواج کے پیشہ ورانہ کردار کو سراہا۔ ملاقات میں دونوں جانب سے پاکستان اور ناروے کے درمیان دفاع اور سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی روابط اور تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اس سے قبل ناروے کے وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی صورتحال اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے ناروے کے وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ناروے پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا، جس پر پاکستان اس کا شکر گزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کشیدگی کے دوران بھی ناروے پاکستان کے ساتھ رابطے میں رہا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ناروے کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 78 سالہ شراکت داری موجود ہے اور پاکستان قریبی تعلقات کو مزید آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

ناروے کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ناروے میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ ناروے کی کمپنیاں بھی پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔

ایسپن بارتھ ایدے نے کہا کہ پاکستان نے خطے اور عالمی امن کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی امن اور معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔

ناروے کے وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی امن کے لیے کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔