شگر: براڈ پیک حادثے میں لاپتہ پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مقامی پورٹرز نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد برفانی تودے سے برآمد کرلی۔ لاش کو براڈ پیک بیس کیمپ منتقل کیا گیا، جہاں سے پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سکردو پہنچا دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق شگر سے تعلق رکھنے والے مقامی پورٹرز ابوذر علی، محمد بشیر اور محمد ندیم نے اپنی مدد آپ کے تحت سہیل سخی کی تلاش شروع کی۔ مقامی پورٹرز نے جدید آلات کے بغیر کئی گھنٹے برف میں تلاش جاری رکھی اور بالآخر سہیل سخی کی لاش تلاش کرلی۔
پورٹر ابوذر نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ وہ براڈ پیک بیس کیمپ سے کچھ اوپر گئے تو انہیں کوہ پیما کا کچھ سامان اور ایک جوتا دکھائی دیا۔ اس کے بعد انہوں نے وہاں کھدائی شروع کی۔
ابوذر کے مطابق تقریباً 3 گھنٹے تک کھدائی کے بعد برف کے نیچے سے ایک لاش ملی۔ لاش کا سر شدید زخمی تھا اور ابتدائی طور پر شناخت مشکل تھی۔ پورٹرز واپس بیس کیمپ گئے اور شناخت کے لیے امان اللہ نامی گائیڈ کو اپنے ساتھ لے کر آئے، جس نے لاش کی شناخت سہیل سخی کے طور پر کی۔
بعد ازاں مقامی پورٹرز نے لاش کو لپیٹ کر براڈ پیک سے نیچے منتقل کیا اور اسے بیس کیمپ پہنچایا۔
معروف پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی نے بھی اپنے سوشل میڈیا پیغام میں سہیل سخی کی لاش ملنے کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ لاش کی سب سے پہلے نشاندہی مقامی پورٹرز محمد ندیم، محمد بشیر اور ابوذر نے کی، جن کا تعلق شگر کے علاقے تِسّر سے ہے۔
نائلہ کیانی کے مطابق دیگر مقامی رضاکار بھی تلاش اور منتقلی کے عمل میں شامل ہوگئے اور لاش کو کیمپ ون سے براڈ پیک بیس کیمپ منتقل کیا گیا۔ انہوں نے مقامی رضاکاروں کی بے لوث کوششوں، ہمت اور جذبے کو خراج تحسین پیش کیا۔
یاد رہے کہ 30 جولائی کو براڈ پیک پر آنے والے برفانی تودے کی زد میں آکر پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی سمیت 10 کوہ پیما لاپتہ ہوگئے تھے۔ ریسکیو ٹیم نے بعد ازاں 8 کوہ پیماؤں کی لاشیں تلاش کرلی تھیں، جبکہ سہیل سخی اور ایک نیپالی کوہ پیما لاپتہ تھے۔
سہیل سخی کی لاش ملنے کے بعد براڈ پیک حادثے میں اب ایک نیپالی کوہ پیما کی تلاش جاری ہے۔
سہیل سخی کی میت براڈ پیک بیس کیمپ سے پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سکردو منتقل کردی گئی، جہاں الپائن کلب آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ایاز شگری میت وصول کرنے کے لیے موجود تھے۔









