بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم

عالمی مارکیٹ میں تیل(Crude Oil) کی قیمتیں پیر کو بڑی حد تک مستحکم رہیں اور گزشتہ ہفتے ریکارڈ کیے گئے 5 فیصد سے زائد اضافے کو برقرار رکھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان دیرپا امن معاہدے کے امکانات کم ہونے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور نمایاں رہے۔

کاروباری اوقات کے دوران برینٹ کروڈ کے سودے تقریباً بغیر کسی نمایاں تبدیلی کے 88.55 ڈالر فی بیرل پر رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 14 سینٹ کمی کے بعد 82.26 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ دونوں عالمی بینچ مارک گزشتہ ہفتے 5 فیصد سے زیادہ مہنگے ہوئے تھے۔

تیل کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کا اضافہ آبنائے ہرمز میں ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کے زیرانتظام ٹینکروں پر حملوں اور سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ایک ریفائنری کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ہوا۔ ان واقعات نے عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے آخر میں کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جاری تنازع کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافے کو برداشت کریں۔

فلپ نووا سنگاپور کی ہیڈ آف مارکیٹ انسائٹس پریانکا سچدیوا نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی مستقل حل کی امیدیں کم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں اگست کے اوائل کی کم ترین سطح سے تقریباً مکمل طور پر بحال ہوچکی ہیں۔ ان کے مطابق جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ رسک پریمیم شامل ہوگیا ہے۔

مزیدپڑھیں:پانی کی سطح بلند، نالہ لئی کے اطراف خطرے کے سائرن بجنے لگے

پریانکا سچدیوا نے تاہم کہا کہ تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافے کی گنجائش اس وقت تک محدود ہے جب تک آبنائے ہرمز میں دوبارہ واضح نوعیت کی جارحیت سامنے نہیں آتی۔ ان کے مطابق ٹینکروں یا تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے شواہد ہی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

دریں اثنا، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت میں ہفتے کے اختتام پر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ شپ ٹریکنگ ادارے کیپلر کے مطابق ہفتے کے روز صرف پانچ کموڈیٹی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اتوار کو کسی بھی جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس گزشتہ ہفتے کے اختتام پر 31 کموڈیٹی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

متحدہ عرب امارات نے جمعہ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کے تیسرے بحری جہاز پر حملے کا الزام بھی ایران پر عائد کیا۔ اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق اس سے قبل جمعرات کی شام ایڈنوک کے دو دیگر بحری جہازوں سے متعلق پیش آنے والے واقعات کا الزام بھی ایران پر عائد کیا گیا تھا۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں کشیدگی میں اضافہ عالمی تیل کی سپلائی، شپنگ اخراجات اور توانائی کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار خطے میں مزید حملوں، سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ اور امریکا ایران مذاکرات کی سمت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔