انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ (وقفے وقفے سے روزہ رکھنے) کو وزن کم کرنے سے لے کر کینسر، ذیابیطس اور دماغی صحت تک متعدد فوائد سے جوڑا جاتا رہا ہے لیکن نئی تحقیق نے ان میں سے بعض دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ خوراک سے وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے مگر انسانوں میں اس کے فوائد اتنے زیادہ حیران کن ثابت نہیں ہوئے۔
انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کیا ہے؟
انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ ایک غذائی طریقہ ہے جس میں دن یا ہفتے کے مخصوص اوقات میں کھانے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ اس کی مختلف شکلیں ہیں مثلاً بعض لوگ روزانہ 16 گھنٹے کھانے سے پرہیز کرکے باقی 8 گھنٹوں کے دوران کھانا کھاتے ہیں جبکہ بعض طریقوں میں ہفتے کے مخصوص دنوں میں خوراک کی مقدار محدود کی جاتی ہے۔ اس طریقے کا مقصد عموماً وزن کم کرنا یا صحت کے بعض ممکنہ فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے سے مراد ماہ رمضان المبارک یا دیر ایام کے مذہبی روزے نہیں ہیں۔ رمضان کے روزے ایک مذہبی عبادت ہیں جن کا مقصد کوئی وزن کم کرنا یا کسی غذائی منصوبے پر عمل کرنا نہیں ہوتا۔
رمضان کے روزوں اور وقفے وقفے سے فاسٹنگ میں فرق
اسلام میں رمضان کے روزے فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے سے مکمل پرہیز پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مسلمان سحری کے بعد روزہ شروع کرتے ہیں اور غروب آفتاب کے وقت افطار کرتے ہیں۔ رمضان کے روزے ایک مخصوص مہینے میں مسلسل روزانہ رکھے جاتے ہیں اور ان کی بنیاد مذہبی عبادت، تقویٰ، صبر، خود احتسابی اور ضرورت مندوں کا احساس جیسے مقاصد پر ہے۔
اس خبر میں شامل تحقیق میں جس غذائی طریقے کا جائزہ لیا گیا ہے وہ بنیادی طور پر وزن، خوراک کے اوقات اور ممکنہ طبی فوائد کے تناظر میں زیرِ بحث ہے جبکہ رمضان کے روزے ایک مختلف مذہبی اور عملی نظام کا حصہ ہیں۔
وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کا طریقہ گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ اس میں بعض افراد ہفتے کے مخصوص دنوں میں کھانے سے پرہیز کرتے ہیں جبکہ بعض لوگ روزانہ کھانے کے اوقات کو محدود رکھتے ہیں مثلاً مخصوص گھنٹوں کے دوران کھانا اور باقی وقت کھانا ترک کردینا۔
اس طریقہ خوراک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ وزن کم کرنے کے علاوہ جسم کے میٹابولزم کو بہتر بنانے، خون میں شکر اور بلڈ پریشر کم کرنے، خلیوں کی مرمت کے عمل کو متحرک کرنے اور بعض بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
تاہم غذائیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تحقیق ابھی اتنی مضبوط نہیں کہ حتمی نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔
شکاگو کی یونیورسٹی آف الینوائے کی غذائیت کی ماہر کرسٹا وراڈی کے مطابق وقفے وقفے سے فاسٹنگ کوئی ’جادوئی‘ طریقہ نہیں ہے۔ ان کے بقول دستیاب شواہد سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس طریقے سے وزن کم کیا جاسکتا ہے لیکن یہ کسی بھی دوسرے مؤثر غذائی طریقے سے نمایاں طور پر بہتر ثابت نہیں ہوا۔
جانوروں میں نتائج زیادہ حیران کن
وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے فوائد کے بارے میں ابتدائی اور اہم تحقیق چوہوں، مکھیوں اور کیڑوں جیسے جانوروں پر کی گئی۔
فاسٹنگ سے جسم پہلے توانائی کے لیے شکر استعمال کرنے کے بجائے خون میں موجود چربی کو استعمال کرنا شروع کردیتا ہے۔ اسے جسم کا ایک اہم میٹابولک تبدیلی کا عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران خلیوں میں موجود پرانے اور خراب پروٹین کو ختم اور دوبارہ استعمال کرنے کا عمل بھی متحرک ہوسکتا ہے جسے آٹو فیجی کہا جاتا ہے۔
جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں اس عمل کو بہتر صحت اور طویل عمر سے جوڑا گیا۔ بعض تجربات میں دیکھا گیا کہ ایک جیسے کیلوریز لینے والے چوہوں میں صرف کھانے کے اوقات محدود رکھنے والے جانور زیادہ صحت مند اور دبلا جسم برقرار رکھتے رہے۔ لیکن انسانوں میں صورتحال اتنی واضح نہیں۔
انسانوں میں تقریباً 5 فیصد وزن میں کمی
کرسٹا وراڈی کے مطابق وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے مختلف طریقوں سے انسانوں میں عموماً تقریباً 5 فیصد تک وزن کم ہوسکتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ کمی عام طور پر دوسری مؤثر غذائی حکمت عملیوں سے حاصل ہونے والی کمی کے برابر ہے۔
اس کے باوجود معمولی وزن میں کمی بھی صحت کے بعض اشاریوں میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔ تحقیق میں بعض افراد میں کولیسٹرول اور بلڈ پریشر جیسے میٹابولک خطرے کے عوامل میں کمی دیکھی گئی ہے۔
بعض مطالعات میں پولی سسٹک اووری سنڈروم (پی سی او ایس) کی علامات میں بھی بہتری کے اشارے ملے ہیں جبکہ ابتدائی طور پر زیادہ غیر صحت مند افراد میں فوائد نسبتاً زیادہ دیکھے گئے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کی بہت سخت شکلیں مثلاً ایک دن چھوڑ کر کھانا بعض افراد میں جسم کے دبلا ماس یا پٹھوں کی مقدار کم کرسکتی ہیں۔
کینسر اور دماغی صحت کے دعوے بھی غیر یقینی
وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کو دماغی کارکردگی بہتر بنانے اور کینسر کے خطرے میں کمی سے بھی جوڑا گیا ہے لیکن یہاں بھی انسانی تحقیق اور جانوروں کی تحقیق کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔
جانوروں پر ہونے والے تجربات میں فاسٹنگ کو کینسر سے بچاؤ اور کیموتھراپی کے دوران صحت مند خلیوں کو تحفظ فراہم کرنے سے جوڑا گیا تھا لیکن ایسا ہی اثر انسانوں میں ہونے والی تحقیق میں واضح طور پر سامنے نہیں آیا۔
البتہ ایک تحقیق میں یہ اشارہ ملا کہ 5:2 ڈائٹ پر عمل کرنے والی میٹاسٹیٹک بریسٹ کینسر کی بعض مریض خواتین میں کیموتھراپی کے دوران معیارِ زندگی اور بیماری کے بڑھنے کی رفتار کے حوالے سے ممکنہ فوائد ہوسکتے ہیں۔ تاہم ایسے نتائج کو عام لوگوں کے لیے حتمی طبی مشورہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
اصل مسئلہ: لوگ حقیقت میں کیا کھا رہے ہیں؟
ماہرین کے مطابق وقفے وقفے سے روزہ رکھنے پر ہونے والی تحقیق میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سائنس دان اکثر یہ یقینی طور پر نہیں جانتے کہ تحقیق میں شامل افراد حقیقت میں کیا اور کتنی مقدار میں کھا رہے ہیں۔
جانوروں پر تجربات میں محققین خوراک کی مقدار، اجزا اور اوقات کو مکمل طور پر کنٹرول کرسکتے ہیں لیکن انسانوں کے ساتھ ایسا کرنا انتہائی مشکل ہے۔
عام طور پر تحقیق میں شامل افراد سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی خوراک کی تفصیلات ڈائری میں لکھیں لیکن لوگ کھانے کی بعض چیزیں بھول سکتے ہیں یا جان بوجھ کر درج نہیں کرتے۔
وراڈی کے مطابق ان کی تحقیق میں تقریباً نصف شرکا ہی اپنی خوراک کی مکمل تفصیلات واپس جمع کراتے ہیں۔
سنہ 2025 میں ایک بین الاقوامی تحقیقی ٹیم کی جانب سے تیار کیے گئے ایک تخمینے کے مطابق لوگ اوسطاً اپنی خوراک کی مقدار تقریباً 400 سے 800 یا اس سے بھی زیادہ کیلوریز کم بتا سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:امریکا: والد کے لیے لاٹری خریدنے والی بیٹی نے خود لاکھوں ڈالر جیت لیے
جدید ٹیکنالوجی سے حقیقت سامنے لانے کی کوشش
اب محققین ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو ہر کھانے کی تفصیل خود یاد کرکے لکھنے کی ضرورت نہ پڑے۔
کچھ تحقیقات میں لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر کھانے کی تصویر بنائیں جبکہ بعض تجربات میں ایسے کیمرے استعمال کیے جارہے ہیں جو چشموں یا گلے میں پہنے جانے والے آلات پر نصب ہوتے ہیں اور کھانے یا چبانے کے عمل کو ریکارڈ کرسکتے ہیں۔
تاہم کیمروں کے استعمال سے رازداری کے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
اسی لیے سائنس دان ایسے سینسرز بھی تیار کر رہے ہیں جو کیمرے کے بغیر کھانے کی سرگرمی کو ریکارڈ کرسکیں۔ ان میں چبانے کی حرکت محسوس کرنے والے گلے میں پہنے جانے والے آلات، ایسے اسمارٹ کانٹے جو خوراک کو منہ تک لے جانے کی حرکت اور مقدار کا اندازہ لگاسکیں اور دانتوں پر نصب کیے جانے والے غذائی اجزا کے سینسر شامل ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر ٹیکنالوجیز ابھی ابتدائی یا تجرباتی مرحلے میں ہیں۔
خون اور پیشاب کے ٹیسٹ بھی مددگار ہوسکتے ہیں
ماہرین کے مطابق خون اور پیشاب کے ٹیسٹ بھی اس بات کا زیادہ درست اندازہ لگانے میں مدد دے سکتے ہیں کہ جسم حقیقت میں کون سے غذائی اجزا استعمال کر رہا ہے۔
ایبرسٹویتھ یونیورسٹی کے غذائیت کے محقق تھامس ولسن کے مطابق مستقبل میں مختلف طریقوں کو ملا کر استعمال کیا جاسکتا ہے جن میں خوراک کی ڈائری، خون اور پیشاب سے حاصل ہونے والے حیاتیاتی اشاریے اور پہننے کے قابل آلات شامل ہوں۔
اس مقصد کے لیے ایک تحقیقی ٹیم اس وقت ایسے طریقۂ کار کا جائزہ لے رہی ہے جس کے ذریعے لوگوں کو ان کی معمول کی زندگی سے دور کیے بغیر اتنی درست معلومات حاصل کی جاسکیں جتنی سخت نگرانی میں ہونے والی غذائی تحقیق سے حاصل ہوتی ہیں۔
تو کیا انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ واقعی فائدہ مند ہے؟
اب تک سامنے آنے والی تحقیق سے ایک محتاط نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وقفے وقفے سے فاسٹنگ کے عمل سے وزن کم کرنے اور بعض میٹابولک اشاریوں کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے لیکن اسے غیر معمولی یا جادوئی غذائی طریقہ قرار دینے کے لیے شواہد کافی نہیں۔
خاص طور پر جانوروں پر ہونے والی تحقیق کے نتائج کو براہ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ ماہرین کے مطابق انسانی جسم، خوراک، جسمانی سرگرمی، نیند اور طرزِ زندگی میں اتنی زیادہ انفرادی اور عملی تبدیلیاں ہوتی ہیں کہ کسی ایک غذائی طریقے کے اثرات کو درست طور پر جانچنا مشکل ہوجاتا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے سمیت غذائیت کے بہت سے دعوؤں پر تحقیق کے نتائج بظاہر ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بہتر ٹیکنالوجی اور زیادہ درست ڈیٹا شاید یہ سمجھنے میں مدد دے سکے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کے حقیقی فوائد کتنے ہیں، کن افراد کو فائدہ ہوسکتا ہے اور اس کے بارے میں کون سے دعوے محض سوشل میڈیا اور غذائی رجحانات کی پیداوار ہیں۔









