بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان اے آئی کے حق میں منشور کیوں لکھ رہے ہیں؟

میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ کے 6,500 الفاظ پر مشتمل تازہ خط نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا ٹیکنالوجی کے بڑے کاروباری رہنما واقعی اے آئی کے روشن مستقبل پر یقین رکھتے ہیں یا یہ تحریریں اپنی کمپنیوں اور اس ٹیکنالوجی کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش ہیں؟

گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے سربراہان کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر طویل اور پرامید تحریریں سامنے آنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ تازہ ترین مثال میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کی ہے جنہوں نے گزشتہ ہفتے ’دی فیوچر از فار ایوری ون‘ کے عنوان سے تقریباً 6,500 الفاظ پر مشتمل ایک کھلا خط شائع کیا۔

کچھ لوگوں کے نزدیک یہ تحریر مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں اور مستقبل کے بارے میں امید کا اظہار ہے، جبکہ ناقدین اسے ایک طویل عوامی تعلقات کی مشق قرار دے رہے ہیں۔

تاہم زکربرگ کا یہ منشور کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ اے آئی کی صنعت سے وابستہ کئی بڑے نام مختلف انداز میں پہلے ہی یہ مؤقف پیش کر چکے ہیں کہ وہ جس ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں وہ انسانی تاریخ کی اہم ترین ٹیکنالوجیز میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔

منشور لکھنے کا نیا رجحان

اس رجحان کی ایک نمایاں مثال سنہ 2023 میں سامنے آئی جب نیٹ اسکیپ کے شریک بانی اور معروف سرمایہ کار مارک اینڈریسن نے تقریباً 5,000 الفاظ پر مشتمل ’دی ٹیکنو آپٹمسٹ مینی فیسٹو‘ شائع کیا۔

اینڈریسن نے اپنی تحریر میں ٹیکنالوجی اور جدت کو انسانی مسائل کے حل کا بنیادی ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ ترقی ہی دراصل پیش رفت اور بہتر زندگی کی بنیاد ہے۔

ان کی تحریر کے بعد ٹیکنالوجی کے سربراہوں کی جانب سے مستقبل کے بارے میں اس نوعیت کے طویل منشور لکھنے کا رجحان مزید نمایاں ہوا۔

زکربرگ کی تازہ تحریر میں بھی ایسے لوگوں کے مؤقف پر سوال اٹھایا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو زیادہ تر تباہی، بے روزگاری اور انسانی کردار کے خاتمے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ یہ حیران کن ہے کہ اے آئی تیار کرنے والے بہت سے لوگوں کی گفتگو میں مستقبل کے بارے میں اتنی زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے۔

یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی مالیاتی ادارہ خبردار کر چکا ہے کہ مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد ملازمتوں کو متاثر کر سکتی ہے اور معاشی عدم مساوات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

زکربرگ اس کے باوجود مستقبل میں ملازمتوں کی فراوانی کے بارے میں پُرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اے آئی زیادہ تر ملازمتیں ختم کر دے گی اور انسانوں کی اہمیت کم ہو جائے گی تو پھر وہ ایسی دنیا بنانے کے لیے اتنی جلدی کیوں کام کرے گا؟

یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی موجود ہے۔ میٹا نے حال ہی میں اپنی عالمی افرادی قوت میں تقریباً 10 فیصد، یعنی لگ بھگ 8,000 ملازمتوں میں کمی کی ہے اور کمپنی اپنی توجہ مصنوعی ذہانت پر مرکوز کر رہی ہے۔

صرف زکربرگ ہی نہیں

مصنوعی ذہانت کے روشن مستقبل کے بارے میں طویل تحریریں شائع کرنے والے ٹیکنالوجی سربراہوں میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین بھی شامل ہیں۔

سنہ 2024 میں آلٹمین نے ’دی انٹیلی جنس ایج‘ کے عنوان سے ایک منشور شائع کیا جس میں انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی ترقی کی رفتار میں ڈرامائی اضافے کی امید ظاہر کی۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو سمجھ داری کے ساتھ لیکن پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

اسی سال اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے ’مشینز آف لوونگ گریس‘ کے عنوان سے اپنی تحریر میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے صحت، سیاست اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں ممکنہ انقلابی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔

اموڈی نے واضح کیا کہ ان کا مقصد اے آئی کے ممکنہ مثبت پہلوؤں کو سامنے لانا ہے اور وہ خود کو اس ٹیکنالوجی کے بارے میں ہر وقت خطرے کی گھنٹی بجانے والے شخص کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتے۔

آخر یہ منشور لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟

معاشی امور کے تجزیہ کار نوح اسمتھ کے مطابق ٹیکنالوجی کے یہ سربراہ اس وقت کو انتہائی اہم سمجھتے ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ہر ممکن طریقے سے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کس سمت میں آگے بڑھے۔

مارک زکربرگ کے تازہ منشور میں بھی مستقبل کی ٹیکنالوجی کے بارے میں صرف نظری گفتگو نہیں بلکہ میٹا کی پالیسی کا ایک اہم اشارہ موجود ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ کمپنی اپنے مصنوعی ذہانت کے بعض ٹولز زیادہ کھلے انداز میں فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کے ڈیزائن یا کوڈ کو عوام کے لیے زیادہ قابل رسائی بنایا جائے گا تاکہ لوگ انہیں دیکھ، استعمال اور تبدیل کر سکیں۔ لیکن یہی فیصلہ ایک مشکل سوال بھی پیدا کرتا ہے۔

کیا طاقتور اے آئی کو سب کے لیے کھول دینا محفوظ ہے؟

مصنوعی ذہانت کے طاقتور ماڈلز کے بارے میں حالیہ واقعات نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بعض انتہائی طاقتور اے آئی ماڈلز نے ویب سائٹس میں مداخلت یا انہیں ہیک کرنے جیسے کام کیے جسے بعض مبصرین نے ماڈلز کے ’قابو سے باہر ہونے‘ سے تعبیر کیا۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان واقعات میں جن ماڈلز کا ذکر کیا گیا وہ لازماً وہی ماڈلز نہیں تھے جنہیں اوپن سورس کیا جا رہا ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی کے تیزی سے طاقتور ہونے کے ساتھ یہ سوال ضرور پیدا ہو گیا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی کو عوام کے لیے کس حد تک کھولنا محفوظ ہے۔

نوح اسمتھ کے مطابق اگر کسی اے آئی ٹیکنالوجی میں انسانیت کے لیے انتہائی سنگین خطرہ پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہو تو اسے مکمل طور پر کھولنے کے فیصلے کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

اوپن سورس اے آئی کی دوڑ

یہ بحث ایسے وقت میں بھی ہو رہی ہے جب اوپن سورس مصنوعی ذہانت کی دنیا میں چینی ماڈلز نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔

کیو وین، ڈیپ سیک اور جی ایل ایم جیسے چینی ماڈلز کے ساتھ مغربی دنیا میں میٹا کے لاما، گوگل کی جیما اور میسٹرال اے آئی کے ٹولز بھی اوپن سورس میدان میں مقابلہ کر رہے ہیں۔

اس لیے اے آئی کے مستقبل کے بارے میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کی رائے صرف فلسفیانہ گفتگو نہیں رہی۔ ان کے بیانات ان کمپنیوں کی مستقبل کی حکمت عملی، ٹیکنالوجی کی سمت اور اس عالمی مقابلے پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

کیا یہ منشور عوام کے لیے ہیں یا کمپنیوں کے لیے؟

کاروباری امور کے ماہر روب لالکا کے مطابق ٹیکنالوجی کے سربراہوں کی یہ طویل تحریریں دراصل انہیں اپنی کمپنیوں اور خیالات کو وسیع تر نظریاتی بحث میں رکھنے کا موقع دیتی ہیں۔

ان کے بقول کمپنی کے روایتی بلاگ یا کھلے خط کے ذریعے ایک کاروباری سربراہ خود کو محض ایک کمپنی چلانے والے شخص کے بجائے ایک ایسے ’کاروباری مفکر‘ کے طور پر بھی پیش کر سکتا ہے جو مستقبل کے بارے میں ایک خاص نقطۂ نظر رکھتا ہے۔

لالکا کے مطابق زکربرگ کی تازہ تحریر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کے اثرات پر عوامی غصہ بڑھ رہا ہے۔ ملازمتوں سے لے کر ماحولیات تک، اے آئی کے کئی ممکنہ منفی اثرات پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق یہ منشور دراصل عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش بھی ہو سکتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اس کے ممکنہ نقصانات سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

تاہم وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اے آئی کے حق میں پیش کی جانے والی امید کی بہت سی وجوہات ابھی مستقبل میں ثابت ہونا باقی ہیں۔

مستقبل کا بیانیہ کس کے ہاتھ میں ہوگا؟

مصنوعی ذہانت کے بارے میں یہ منشور ایک دلچسپ تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بڑے سربراہ اب صرف نئی مصنوعات متعارف نہیں کرا رہے بلکہ وہ یہ بھی بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا کو ان مصنوعات اور مصنوعی ذہانت کے پورے انقلاب کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے۔

ایک طرف اے آئی سے ملازمتوں، رازداری، سلامتی اور انسانی اختیار کو لاحق خطرات پر بحث جاری ہے تو دوسری طرف وہی صنعت اپنے سب سے طاقتور لوگوں کے ذریعے ایک زیادہ پُرامید مستقبل کی تصویر پیش کر رہی ہے۔

اصل سوال شاید یہ نہیں کہ یہ منشور مکمل طور پر درست ہیں یا محض تشہیری تحریریں بلکہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی کہانی آخر کون لکھے گاوہ لوگ جو یہ ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں یا وہ معاشرہ جو اس کے نتائج کے ساتھ زندگی گزارے گا؟