بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عدالتی فیصلہ آمنا و صدقنا، نظر ثانی صرف وضاحت کیلئے ہے: طارق فضل

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ سزایافتہ افراد کو ریلیف صرف قانونی اور عدالتی طریقہ کار کے تحت ہی مل سکتا ہے۔

کسی بھی وزیراعظم کے ایگزیکٹو آرڈر سے کسی قیدی کی سزا ختم یا تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر ذاتی انتقامی کارروائی کے الزامات کو بالکل بے بنیاد اور غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی سیاسی انتقام پر نہیں بلکہ آئین و قانون کی بالادستی پر کاربند ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا اور حکومت اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کا مقصد فیصلے پر عمل درامد روکنا نہیں بلکہ صرف یہ قانونی وضاحت حاصل کرنا ہے کہ آیا یہ فیصلہ کسی مخصوص قیدی کے لیے ہے یا تمام قیدیوں پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر یہ فیصلہ موجودہ طریقہ کار پر لاگو ہوا تو حکومت اس کی بھی مکمل پاسداری کرے گی۔

طبی سہولیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مروجہ قوانین کے تحت تمام سزایافتہ افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو سرکاری ہسپتال میں مناسب علاج نہ ملا تو حکومت تمام قانونی آپشنز پر غور کر سکتی ہے، جس میں شفا ہسپتال یا ضرورت پڑنے پر بیرونِ ملک بھیجنے کا آپشن بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں:بدعنوانی و اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس ہے: ڈی جی امیگریشن

وفاقی وزیرنے مزید کہا کہ یاسمین راشد سمیت تمام قیدیوں کے طبی و قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ حکومت کی نیت بالکل واضح ہے اور وہ قانون کی پاسداری کے ساتھ ساتھ تمام انسانی و طبی تقاضے پورے کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔