جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان (Fazlur rehman)کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد بنانے پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے کہ تاکہ ایوان کے اندر فیصلے مشاورت سے ہوں۔
اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن ارکان مشترکہ حکمت عملی سے مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے معیشت کا نقصان ہورہا ہے، ہم گزشتہ 20 سالوں سے تسلیاں سن رہے ہیں، امن وامان کے معاملات میں حکومت اقدامات کا نتیجہ نہیں آرہا اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو نقصان ہورہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کب تک خاموش رہیں؟ کب تک ہم مصلحتوں کاشکار رہیں، نئے صوبوں کی باتیں کس امید پر کی جارہی ہیں سمجھ نہیں آرہا، جو بیانیہ سرکار کی جانب سے دیا جا رہا ہے غلط ہے، حالات میں بہتری نہ آنے کی وجہ سے معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ہم نے پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی کا فیصلہ کیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا کہ عوامی طاقت سیاسی لوگوں کے پاس ہے اور وہ ہی ملک بچا سکتے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آئین پر متفق ہوجائیں۔
انہوں نے کہا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، منتخب نمائندے پالیسیاں بنائیں۔
پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تجربہ کار لوگوں کی تعداد موجود ہے، ہمیں پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، پارلیمان میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کوئی بھی ملک قانون کے بغیر چلے تو اسے جنگل کا کہا جاتا ہے، آج سپریم کورٹ کی توہین کی گئی ہے، ان کی نگاہوں میں عدالتی حکم کی کیا حیثیت ہے؟ یہ خود تسلیم کررہے ہیں کہ یہ سسٹم کو لیپس کرچکا ہے۔









