بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اڈیالہ جیل، عام قیدیوں نے بھی علاج کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اسپتال سے علاج کے بعد دیگر قیدیوں کا کیس بھی عدالت پہنچ گیا،اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے بھی نجی اسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے بات کرانے کیلئے عدالت سے رجوع کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سپریٹنڈنٹ جیل سے پیراوائز کمنٹس طلب کر لیے۔یاد رہے کہ عمران خان کو بھی علاج کی غرض سے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان،محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی،اسماعیل خان کے وکیل بیرسٹر اختر چھینہ عدالت پیش ہوئے ۔

بیرسٹر اختر چھینہ کا کہنا تھا کہ درخواست گزار ہیموفیلیا بیماری کا شکارہے اور انٹرنل بلیڈنگ ہے، دو ماہ میں دس مرتبہ اسپتال لایاگیا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا، اس مسلہ کا علاج ابھی تک پاکستان میں صرف شفاء ہسپتال میں ہی ممکن ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ ہےاگر بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں نہیں تو قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ فیصلے نے واضع کر دیا کہ علاج کے اخراجات اہل خانہ برداشت کر سکتے ہیں

سپریم کورٹ فیصلہ پر انحصار کرتے ہوئے استدعا ہے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے،اگر لیور ٹرانسپلانٹ سرکاری اسپتال میں میسر نہ ہو تو کیا اس قیدی کو پرائیوٹ ہسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:عمران خان کے معاملے پر برطانیہ خاموشی کب توڑے گا؟ جمائما کا ایکشن کا مطالبہ

درخواست گزار اویس الطاف کےوکیل سید جعفر ویڈیو لنک ک ذریعے عدالت پیش ہوئے ، سید جعفر ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے کہ ملزم بخار اور دل کا مرض ہے، مناسب علاج معالجہ کرانا قیدی کا بنیادی حق ہے۔سرکاری ہسپتال میں علاج ممکن نہیں شفاء ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیاجائے۔