بھارت کے شہر احمد آباد(ahmedabad) میں ایک ایسا منفرد ریسٹورنٹ موجود ہے جہاں لوگ چائے اور بن مکھن سے لطف اندوز ہونے کے لیے پرانی قبروں کے درمیان بیٹھتے ہیں۔ شہر کے لال دروازہ علاقے میں واقع ’لکی ریسٹورنٹ‘ میں میزیں پرانی قبروں کے گرد لگائی گئی ہیں، جہاں گاہک بے تکلف بیٹھ کر کھانا کھاتے اور گفتگو کرتے ہیں۔
’لکی ریسٹورنٹ‘ کو ’نیو لکی ریسٹورنٹ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں میزیں پرانی قبروں کے گرد ترتیب دی گئی ہیں اور قبروں کو چھوٹی دھاتی ریلنگ سے الگ کیا گیا ہے۔ ریسٹورنٹ آنے والے افراد قبروں کے بالکل قریب بیٹھ کر چائے، بن مکھن اور دیگر کھانے پینے کی اشیا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
اس ریسٹورنٹ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کی کوئی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ موجود نہیں۔ کاروبار آج بھی شہرت اور لوگوں کی زبانی تشہیر کی بنیاد پر چل رہا ہے۔
قبریں ڈائننگ ہال کا حصہ کیسے بنیں؟
ریسٹورنٹ کی تاریخ 1950 کی دہائی سے جڑی ہوئی ہے، جب یہاں قبرستان کے قریب ایک چھوٹا سا چائے کا اسٹال قائم کیا گیا تھا۔ کاروبار بڑھنے کے بعد ریسٹورنٹ تعمیر کیا گیا تو قبروں کو ہٹانے کے بجائے ان کے گرد ہی ریسٹورنٹ بنا دیا گیا۔
انتظامیہ کے مطابق قبروں کی روزانہ صفائی کی جاتی ہے اور انہیں پھولوں سے سجایا جاتا ہے تاکہ مرحومین کا احترام برقرار رہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ قبریں ریسٹورنٹ کی شناخت کا مستقل حصہ بن گئیں۔
کچھ حالیہ رپورٹس کے مطابق ریسٹورنٹ میں تقریباً 26 قبریں موجود ہیں۔
ریسٹورنٹ میں مختلف کھانے دستیاب ہیں تاہم یہاں آنے والوں میں سب سے زیادہ مقبول چائے اور بن مکھن ہیں، جو اس جگہ کی خاص پہچان بن چکے ہیں۔
لکی ریسٹورنٹ سے خوش قسمتی کا تعلق
مقامی لوگوں کے درمیان اس ریسٹورنٹ کو خوش قسمتی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ریسٹورنٹ کے مالکان کا یقین تھا کہ قبروں کو محفوظ رکھنے سے کاروبار کے لیے خوش بختی آتی ہے۔
View this post on Instagram
وقت کے ساتھ یہ تصور بھی مشہور ہوگیا کہ یہاں چائے پینے یا کھانا کھانے سے خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے۔ بعض مقامی افراد اہم مواقع، کاروباری فیصلوں یا امتحانات سے قبل یہاں آکر چائے پیتے ہیں اور اسے خوش قسمتی کے ایک چھوٹے سے عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔
مشہور بھارتی مصور ایم ایف حسین بھی اس ریسٹورنٹ کے باقاعدہ گاہکوں میں شامل رہے ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی ایک پینٹنگ آج بھی ریسٹورنٹ کے اندر موجود ہے، جو اس کی ثقافتی شناخت میں ایک اور پہلو کا اضافہ کرتی ہے۔
مزیدپڑھیں:عمر بھر جوان رہنے کا سائنسی راز، چار زبانوں پر مہارت
دنیا کے دیگر شہروں میں بھی قبرستان کیفے
قبرستان کے قریب یا ان کے اندر قائم کیفے صرف احمد آباد تک محدود نہیں۔ دنیا کے مختلف شہروں میں بھی اس نوعیت کے کیفے موجود ہیں۔
جرمنی کے شہر برلن میں بھی تقریباً ایک درجن قبرستان کیفے قائم ہیں، جو قبرستان کی عمارتوں، سابق چیپلز اور حتیٰ کہ ایک بند کیے گئے شمشان گھاٹ کی عمارت میں بھی قائم کیے گئے ہیں۔
ان کیفے میں لوگ صرف غم اور سوگ کے لیے نہیں بلکہ کافی، دوپہر کے کھانے یا کچھ دیر سکون سے بیٹھنے کے لیے بھی آتے ہیں۔ یوں یہ جگہیں موت کے بجائے زندگی پر غور اور شہر کی مصروفیات سے چند لمحوں کے سکون کا ذریعہ بن گئی ہیں۔
تاہم بعض لوگوں نے قبروں کے قریب کاروبار کرنے پر اعتراض بھی کیا ہے اور اسے مرحومین کی بے حرمتی قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود احمد آباد کا لکی ریسٹورنٹ آج بھی لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
یہاں نہ کوئی پرتعیش کھانا ہے اور نہ کوئی غیر معمولی سہولت، بس بن مکھن، ایک کپ گرم چائے اور قبروں کے درمیان بیٹھنے کا منفرد تجربہ ہے، جسے مقامی لوگ خوش قسمتی سے بھی جوڑتے ہیں۔









