بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آبنائے ہرمز کھلنے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی

عالمی منڈی میں خام تیل(Crude Oil) کی قیمتوں میں جمعرات کو بھی کمی کا سلسلہ جاری رہا، سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ ایران اور قطر کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکتی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں کم ہوں گی۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 41 سینٹ  یعنی 0.5 فیصد کمی کے بعد 87.40 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 37 سینٹ  یعنی 0.5 فیصد کمی کے بعد 81.80 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا، برینٹ کی قیمت میں مسلسل چوتھے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں پانچویں روز کمی متوقع ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے سے متعلق معاہدے کی تفصیلات حتمی شکل دینے کے قریب ہیں،اس سے ایک روز قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی کہا تھا کہ دونوں ممالک نے اہم آبی گزرگاہ اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے حوالے سے اتفاق کیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شامل ہے، جنگ شروع ہونے سے قبل اس راستے سے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے تیل اور قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا، تاہم ایران کی جانب سے آبنائے کو بند کرنے کی کوششوں کے بعد شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً ایک چوتھائی تک رہ گئی ہے۔

اے این زیڈ کے سینئر کموڈیٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنز کے مطابق آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے امکانات میں بہتری کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا ہے، تاہم مارکیٹ میں قلت کے خدشات اب بھی موجود ہیں۔

ادھر قطر کے وزیراعظم جمعرات کو ایران کا دورہ کریں گے جہاں تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کیے جانے کی توقع ہے، امریکہ نے تقریباً ایک ماہ سے ایران کے خلاف حملے روک رکھے ہیں اور ایران پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو خلیجی خطے میں توانائی کی ترسیل میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔

مزیدپڑھیں:ملک میں مون سون کا نیا سپیل،آج سے تیز بارشوں کی پیشگوئی

تاہم فریقین کے مطالبات میں اب بھی نمایاں اختلاف موجود ہے، ایران نے خلیج اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر آبی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جون میں طے پانے والے مگر بعد میں ختم ہونے والے عبوری جنگ بندی معاہدے کے تحت ملاقات کیے جانے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق تنازع کے مرکز میں ایران کا جوہری پروگرام اب بھی اہم مسئلہ ہے، جس کا فوری حل مشکل نظر آتا ہے، اس صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے اور خام تیل کی قیمتوں میں جنگی رسک پریمیم شامل رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ اور روس یوکرین جنگ کے باعث عالمی ڈیزل مارکیٹ بھی دباؤ کا شکار ہے، مشرقِ وسطیٰ میں ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ یوکرین کے حملوں کے نتیجے میں روس کی متعدد ریفائنریوں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی ڈیزل برآمدات میں کمی آئی ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکہ میں ڈیزل اور ہیٹنگ آئل سمیت ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر 22 لاکھ بیرل کم ہو کر 10 کروڑ 34 لاکھ بیرل رہ گئے،اے این زیڈ کے ڈینیئل ہائنز کے مطابق یہ اس سال کے اس وقت کے لیے اب تک کی کم ترین سطح ہے۔