پاکستان میں بجلی (electricity)کی طلب ایک مرتبہ پھر بحال ہونا شروع ہوگئی ہے، تاہم اس بحالی کے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی نمایاں ہورہا ہے کہ بجلی کی طلب پوری کرنے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ گرڈ پر مجموعی کھپت بڑھ رہی ہے، مگر سولر کی تیز رفتار توسیع نے طلب کے روایتی انداز کو تبدیل کردیا ہے، جس کے نتیجے میں شام کے اوقات میں مہنگی تھرمل بجلی پر انحصار بڑھ رہا ہے۔
جولائی میں قومی گرڈ سے بجلی کی پیداوار 14.5 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم گزشتہ 12 ماہ کی بنیاد پر بجلی کی پیداوار میں اضافہ صرف 2.8 فیصد رہا۔ اس لیے جولائی کے ماہانہ اعدادوشمار کو بجلی کی کھپت میں کسی بڑی اور مستقل تیزی کے بجائے طلب میں نسبتاً نمایاں بحالی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
بجلی کی طلب میں یہ تبدیلی صرف مجموعی یونٹس تک محدود نہیں بلکہ اس کے فی گھنٹہ استعمال کے انداز میں بھی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ جولائی میں دن کے بیشتر اوقات قومی گرڈ کی طلب 2025 اور 2024 کے مقابلے میں زیادہ رہی، جبکہ شام کے اوقات میں طلب میں اضافہ خاص طور پر نمایاں ہوگیا۔ دو سال پہلے کے مقابلے میں موجودہ طلب کا منحنی خط ایک مختلف پاور سسٹم کی تصویر پیش کررہا ہے۔
صنعتی صارفین کی گرڈ پر واپسی
بجلی کی طلب میں اضافے کی ایک اہم وجہ صنعتی صارفین کا کیپٹو پاور سے دوبارہ قومی گرڈ کی طرف آنا ہے۔ کیپٹو جنریشن کی لاگت بڑھنے کے باعث صنعتی شعبے کے لیے اپنی بجلی پیدا کرنا پہلے کی طرح مسابقتی نہیں رہا، جس کے نتیجے میں کئی صنعتی صارفین گرڈ پر واپس آئے ہیں۔
دوسری جانب سولر نے دن کے اوقات میں گرڈ سے بجلی کی طلب کو مسلسل کم کیا ہے۔ اس طرح پاور سسٹم میں ڈک کریو (Duck Curve) زیادہ نمایاں ہوگئی ہے۔
دن کے وقت جب دھوپ موجود ہوتی ہے تو بڑی تعداد میں صارفین سولر سے اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور گرڈ پر انحصار کم ہوجاتا ہے۔ لیکن سورج غروب ہوتے ہی یہی صارفین دوبارہ گرڈ سے بجلی حاصل کرنا شروع کردیتے ہیں، جس سے شام کے مختصر وقت میں بجلی کی طلب اچانک تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔
یہی شام کا پیک اب پاکستان کے پاور سسٹم کے لیے سب سے بڑا امتحان بنتا جارہا ہے۔
ہائیڈل پیداوار نے بڑا سہارا دیا
جولائی میں بجلی کی مجموعی پیداوار تقریباً ریفرنس سطح کے مطابق رہی، جو آر ایل این جی کی شدید قلت کے دوران پیدا ہونے والی کمی کے مقابلے میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اس دوران ہائیڈل پاور سب سے اہم ذریعہ ثابت ہوئی۔ ہائیڈل بجلی کی پیداوار تقریباً 6 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو مجموعی بجلی پیداوار کا تقریباً 40 فیصد بنتی ہے۔
یہ ماہانہ ہائیڈل پیداوار کی ریکارڈ بلند سطح تھی اور گزشتہ ریکارڈ کے مقابلے میں بھی نمایاں زیادہ رہی۔ ہائیڈل پیداوار ریفرنس سطح سے تقریباً 8 فیصد زیادہ رہی، جس سے پیک ڈیمانڈ کے سیزن کے آغاز پر سسٹم کو نسبتاً کم لاگت والی بجلی کی بڑی مقدار دستیاب ہوئی۔
مزیدپڑھیں:انڈس ہائی وے پر ویگن کی موٹر سائیکل کو ٹکر، 4 افراد جاں بحق
آر ایل این جی کی صورتحال بہتر، مگر مکمل بحالی نہیں
آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار میں بھی کچھ بہتری آئی ہے۔ جولائی میں مجموعی بجلی پیداوار میں آر ایل این جی کا حصہ تقریباً 11 فیصد رہا، تاہم اس ذریعے سے حقیقی پیداوار اب بھی ریفرنس سطح سے تقریباً 12 فیصد کم رہی۔
اگرچہ یہ کمی بحران کے ابتدائی مہینوں کے مقابلے میں کم ہے، لیکن جولائی مسلسل پانچواں مہینہ تھا جس میں آر ایل این جی سے بجلی پیداوار ریفرنس سطح سے نیچے رہی۔
عالمی گیس مارکیٹ میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان ایل این جی کارگو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، تاہم مہنگے درآمدی کارگو کا اثر بجلی پیدا کرنے کی مجموعی لاگت پر واضح طور پر پڑ رہا ہے۔
امپورٹڈ کول کا استعمال غیر معمولی حد تک بڑھ گیا
آر ایل این جی کی کمی پوری کرنے کے لیے نظام کو ایک اور مہنگے تھرمل ذریعے یعنی امپورٹڈ کول پر زیادہ انحصار کرنا پڑا۔
جولائی میں امپورٹڈ کول سے بجلی کی پیداوار ریفرنس سطح سے 144 فیصد زیادہ رہی۔ مجموعی بجلی پیداوار میں امپورٹڈ کول کا حصہ تقریباً 11 فیصد تھا۔
اس ذریعے سے توقع کے مقابلے میں 1.2 ارب سے زائد اضافی یونٹس پیدا کیے گئے، جبکہ جولائی میں امپورٹڈ کول سے ماہانہ بجلی پیداوار کی بلند ترین ریکارڈ سطح بھی دیکھی گئی۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ محض بجلی کی مجموعی دستیابی کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ جس وقت بجلی درکار ہوتی ہے، اس وقت کون سا ذریعہ اسے فراہم کررہا ہے اور اس کی لاگت کیا ہے۔
شام کے پیک نے پورے نظام کو دباؤ میں ڈال دیا
دن کے وسط میں پاکستان کے پاور سسٹم کے پاس اب نسبتاً وافر بجلی موجود ہوتی ہے۔ سولر نے اس صورتحال کو بنیادی طور پر تبدیل کردیا ہے، لیکن سورج غروب ہونے کے بعد صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔
شام کے وقت لاکھوں صارفین ایئر کنڈیشنرز، پنکھوں اور دیگر برقی آلات کے استعمال کے باعث دوبارہ گرڈ سے بجلی حاصل کرتے ہیں۔ اس اچانک اضافے کو پورا کرنے کے لیے روایتی پاور پلانٹس کو تیزی سے پیداوار بڑھانا پڑتی ہے۔
آر ایل این جی سے پیداوار اب بھی ریفرنس سطح سے کم ہے، جبکہ شام کے پیک میں طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ نتیجتاً بجلی کا اضافی بوجھ تھرمل پلانٹس، خصوصاً امپورٹڈ کول اور مہنگی آر ایل این جی پر منتقل ہورہا ہے۔
بجلی کی مارجنل لاگت 46 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی
اس صورتحال کا براہ راست اثر بجلی کی قیمت پر پڑ رہا ہے۔
جولائی میں پیک ڈیمانڈ کے دوران بجلی پیدا کرنے کی مارجنل کاسٹ تقریباً 46 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دو برس کے اسی عرصے میں دیکھی جانے والی سطح کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔
آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنا خاص طور پر مہنگا ثابت ہوا اور اس کے باعث بجلی کی اوسط پیداواری لاگت تقریباً 47 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح قرار دی جارہی ہے۔
بلند قیمتوں پر اسپاٹ مارکیٹ سے حاصل کیے جانے والے ایل این جی کارگو کا اثر اب براہ راست پیک اوقات میں بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں منتقل ہورہا ہے۔
طلب میں اضافہ، لیکن مہنگی بجلی کے ساتھ
بجلی کی طلب میں اضافہ بظاہر پاور سیکٹر کے لیے مثبت خبر ہے۔ زیادہ طلب کا مطلب ہے کہ پاور پلانٹس اور دیگر بجلی کے اثاثے بہتر طور پر استعمال ہورہے ہیں، صنعتی صارفین دوبارہ گرڈ سے جڑ رہے ہیں اور مقررہ اخراجات زیادہ یونٹس پر تقسیم ہوسکتے ہیں۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اضافی طلب پوری کرنے کے لیے شام کے پیک اوقات میں مہنگی تھرمل بجلی استعمال کرنا پڑے۔
اسی وجہ سے جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ 2 روپے فی یونٹ سے زیادہ رہنے کی توقع کی جارہی ہے، جس سے صارفین کے بجلی کے بلوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
یہ صورتحال آنے والے مہینوں میں مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے کیونکہ اگست اور ستمبر عام طور پر پاکستان میں بجلی کی سالانہ بلند ترین طلب والے مہینوں میں شامل ہوتے ہیں۔
ایل این جی کی قیمت اور جغرافیائی سیاسی خطرات
دوسری جانب ایل این جی کی سپلائی اور قیمتوں کو متاثر کرنے والی عالمی اور جغرافیائی سیاسی رکاوٹیں بھی ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔
اگر آر ایل این جی کی دستیابی محدود رہتی ہے یا اس کی قیمت بلند رہتی ہے تو شام کے پیک میں طلب پوری کرنے کے لیے پاور سسٹم کو متبادل تھرمل ذرائع پر مزید انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس صورت میں بجلی کی طلب میں اضافہ معاشی سرگرمی کے لیے مثبت ہونے کے باوجود صارفین کے لیے مہنگی بجلی اور زیادہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا باعث بن سکتا ہے۔
سولر اور بیٹریاں پاور سسٹم کو مزید بدل رہی ہیں
دریں اثنا پاکستان میں سولر کی توسیع جاری ہے۔ مزید روف ٹاپ اور بی ہائنڈ دی میٹر سولر دن کے اوقات میں قومی گرڈ کی طلب کو کم کررہا ہے۔
اب بیٹری اسٹوریج بھی اس پورے نظام میں ایک نئی تبدیلی لا رہا ہے۔ ایسے صارفین جو دن کے وقت اضافی سولر بجلی پیدا کرتے ہیں، اسے بیٹریوں میں محفوظ کرکے شام کے اوقات میں استعمال کرسکتے ہیں۔
اگر بیٹریوں کا استعمال بڑے پیمانے پر بڑھتا ہے تو شام کے وقت گرڈ پر طلب کا دباؤ کچھ کم ہوسکتا ہے۔ تاہم اس سے بجلی کی روایتی طلب کا انداز مزید پیچیدہ ہوجائے گا اور مستقبل کی طلب کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوگا۔
پاکستان کے پاور سیکٹر کو نئی حکمت عملی درکار
پاکستان کا پاور سیکٹر اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہورہا ہے جہاں صرف یہ سوال کافی نہیں کہ ملک کے پاس بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت کتنی ہے۔
اصل مسئلہ بجلی کی دستیابی کا وقت، طلب کا بدلتا ہوا انداز اور اس وقت بجلی پیدا کرنے کی لاگت ہے۔
ہائیڈل پاور دستیاب ہو تو کم لاگت بجلی فراہم کرسکتی ہے، سولر دن کے اوقات میں گرڈ پر دباؤ کم کرسکتا ہے، جبکہ بیٹریاں مستقبل میں شام کے پیک کو متوازن کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ لیکن سورج غروب ہونے کے بعد سسٹم کو اب بھی فوری طور پر دستیاب ہونے والی لچکدار تھرمل بجلی کی ضرورت ہے، اور یہی بجلی اس وقت تیزی سے مہنگی ہورہی ہے۔
لہٰذا پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب بجلی پیدا کرنے کی مقدار نہیں بلکہ صحیح وقت پر صحیح قیمت پر بجلی فراہم کرنا ہے۔ اگر پاور پلاننگ نے سولر، بیٹریوں، صنعتی صارفین کی گرڈ پر واپسی اور شام کے بڑھتے ہوئے پیک کو مدنظر نہ رکھا تو مستقبل میں بجلی کی طلب کی بحالی کے باوجود نظام مہنگی اور غیر مؤثر بجلی کی طرف مزید دھکیلا جاسکتا ہے۔









