بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں(oilprices) میں جمعہ کو کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ دونوں اہم بینچ مارک مسلسل دو ہفتوں سے جاری اضافے کا سلسلہ توڑنے کی جانب گامزن ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جون میں طے پانے والی مفاہمت کی شرائط پر واپس نہ آنے کی اطلاعات نے سفارتی کوششوں کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ کے اکتوبر کے سودے 25 سینٹ یا 0.3 فیصد کمی کے بعد 89.45 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 22 سینٹ یا 0.3 فیصد کمی کے بعد 83.31 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کی قیمت میں 5.3 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 4.3 فیصد کمی متوقع ہے، جس سے دونوں بینچ مارک گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والے اضافے کا سلسلہ ختم کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم بعد میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ نے مارکیٹ میں دوبارہ دباؤ پیدا کردیا۔ وال اسٹریٹ جرنل نے معاملے سے واقف افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ثالثوں کو متعدد مرتبہ آگاہ کیا ہے کہ وہ جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (MOU) کو بحال کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

اس پیش رفت سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی سفارتی کوششیں مزید پیچیدہ ہوگئی ہیں۔ سرمایہ کار خطے میں ممکنہ کشیدگی، ایران کی تیل برآمدات اور عالمی سپلائی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو واشنگٹن نے بھی واضح کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں کررہا، جبکہ دیگر ممالک دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں امریکا نے ایران کے خلاف اپنی جانب سے تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تہران نے ان پابندیوں کو غیر انسانی اور دشمنانہ اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ پابندیاں اپنی تاثیر کھو چکی ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

ایران سے متعلق سفارتی صورتحال ایسے وقت میں تیل کی عالمی مارکیٹ کے لیے اہم ہے جب سرمایہ کار پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی خطرات اور عالمی خام تیل کی سپلائی کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کے خلاف مزید پابندیوں یا کشیدگی میں اضافے کی صورت میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جاسکتا ہے، جبکہ سفارتی پیش رفت یا کشیدگی میں کمی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔

دریں اثنا، روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ برطانوی ساختہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کے ذریعے روسی سرزمین پر یوکرینی حملوں کے جواب میں وہ برطانیہ کے فوجی اہداف کو یوکرین کے اندر اور باہر نشانہ بنا سکتا ہے۔

روس کی جانب سے اس انتباہ نے یورپ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں، کیونکہ برطانیہ نیٹو کے بانی ارکان میں شامل ہے اور یوکرین کو فوجی معاونت فراہم کرنے والے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ نہیں کریں گے۔ ٹرمپ نے امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کی جانب سے روسی حکام کو ممکنہ حملے سے خبردار کیے جانے سے متعلق میڈیا رپورٹس کو بھی زیادہ اہمیت نہیں دی۔

ماہرین کے مطابق اس وقت عالمی تیل مارکیٹ میں ایک طرف ایران سے متعلق سفارتی غیر یقینی صورتحال اور دوسری جانب روس یوکرین تنازع موجود ہے، تاہم خام تیل کی قیمتوں کا رخ عالمی طلب، سپلائی، پابندیوں اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے باہمی اثرات سے طے ہوگا۔