اسلام آباد(حمزہ ارشاد)
کیپٹن (ر) محمد محمود رائے کو 26 اگست 2026 کو سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔
گریڈ 21 کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر محمد محمود رائے اس وقت سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن بھی ہیں، تاہم اب وہ وفاقی صحت کے انتظامی معاملات کی بھی نگرانی کریں گے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حکم کے مطابق انہیں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 10 کے تحت 3 ماہ یا مستقل سیکریٹری کی تعیناتی تک، جو بھی پہلے ہو، اضافی چارج دیا گیا ہے۔
وفاقی سیکریٹری صحت کی نئی ذمہ داری
کیپٹن (ر) محمد محمود کو یہ ذمہ داری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب وفاقی وزارت صحت انتظامی اور حفاظتی معاملات کے حوالے سے شدید توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
سابق وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نرسری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد 120 روز کے لیے معطل کیا گیا تھا۔
محمد محمود اب وفاقی صحت کے انتظامی معاملات ایسے وقت میں سنبھال رہے ہیں جب اسپتالوں کے انتظام، ادارہ جاتی جواب دہی اور مریضوں کی حفاظت سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
محمد محمود رائے کون ہیں؟
کیپٹن (ر) محمد محمود رائے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 21 کے افسر ہیں۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے عہدے پر فائز ہیں جبکہ 26 اگست 2026 کے حکم کے تحت انہیں نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن کے سیکریٹری کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔
ان کے سرکاری کیریئر کا آغاز 1990 کی دہائی کے وسط میں ہوا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 1995 میں سول سروس جوائن کی اور لاہور پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سمیت مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔
سرکاری پروفائلز کے مطابق انہیں تمغہ امتیاز بھی دیا جا چکا ہے۔
وفاقی وزیر صحت اور سیکریٹری میں کیا فرق ہے؟
سید مصطفیٰ کمال وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ہیں اور وزارت کے سیاسی سربراہ ہیں۔
دوسری جانب کیپٹن (ر) محمد محمود کو وفاقی سیکریٹری صحت کا اضافی چارج دیا گیا ہے، یعنی وہ وزارت کے اعلیٰ انتظامی افسر کی حیثیت سے امور انجام دیں گے۔
محمد محمود کو وفاقی وزیر صحت مقرر نہیں کیا گیا۔
نندی پور پاور پراجیکٹ سے اہم ذمہ داریوں کا آغاز
محمد محمود نے پنجاب میں مختلف انتظامی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد توانائی کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا۔
جولائی 2013 میں انہیں نندی پور پاور پراجیکٹ کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ اس وقت نندی پور منصوبہ ملک کے اہم اور زیرِ بحث توانائی منصوبوں میں شامل تھا۔
سرکاری ریکارڈ میں انہیں نندی پور اور چیچو کی ملیاں منصوبوں سے متعلق پاور پراجیکٹس مینجمنٹ یونٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر بھی درج کیا گیا۔
اس دوران منصوبے میں تاخیر، لاگت، کارکردگی اور آپریشنز سے متعلق سوالات اٹھتے رہے۔ محمد محمود کو اکتوبر 2015 میں منصوبے سے منتقل کردیا گیا۔
بعد ازاں نندی پور منصوبے کے مختلف پہلوؤں، جن میں خریداری اور انتظامی امور شامل تھے، آڈٹ اور پارلیمانی سطح پر بھی زیرِ بحث آئے۔
تاہم دستیاب ریکارڈ میں نندی پور منصوبے کے حوالے سے محمد محمود کے خلاف کسی ذاتی فوجداری سزا یا عدالتی جرم ثابت ہونے کا ذکر نہیں ملتا۔
پنجاب میں زراعت، تعلیم اور دیگر اہم عہدے
نندی پور کے بعد محمد محمود نے پنجاب حکومت کے مختلف اہم محکموں میں سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
وہ اپریل 2016 سے جون 2018 تک سیکریٹری زراعت پنجاب رہے۔
2018 میں انہیں سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ تعینات کیا گیا جبکہ 2019 میں انہوں نے سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھائیں۔
بعد ازاں انہیں محکمہ جنگلات، جنگلی حیات اور ماہی پروری کی ذمہ داری بھی دی گئی۔
2019 کے آخر میں انہیں کمشنر راولپنڈی ڈویژن مقرر کیا گیا، جہاں ان کی تعیناتی کے دوران راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ بھی زیرِ بحث رہا۔
راولپنڈی رنگ روڈ تنازع کیا تھا؟
2021 میں راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ روٹ میں تبدیلی، زمین کے حصول اور مبینہ طور پر بعض نجی مفادات کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کے باعث تنازع کا شکار ہوا۔
اس وقت کے کمشنر راولپنڈی کی حیثیت سے محمد محمود کا نام بھی تحقیقات میں سامنے آیا۔
ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں منصوبے کے روٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دیگر حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔
تاہم تحقیقات کے نتائج پر بھی اختلاف سامنے آیا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق تین رکنی تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان نے بنیادی نتائج سے اتفاق نہیں کیا تھا جبکہ ایک رکن کے مطابق سرکاری افسران کے مبینہ کرپشن میں ملوث ہونے کے شواہد ثابت نہیں ہوئے تھے۔
اس لیے ابتدائی انکوائری کو کسی غیر متنازع عدالتی فیصلے یا جرم ثابت ہونے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
گرفتاری، ضمانت اور مقدمے کا انجام
پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے بعد ازاں مقدمہ درج کیا اور محمد محمود سمیت ایک لینڈ ایکوزیشن افسر کو جولائی 2021 میں گرفتار کیا گیا۔
عدالت نے دورانِ تفتیش جسمانی ریمانڈ بھی دیا، تاہم بعدازاں نومبر 2021 میں لاہور ہائیکورٹ نے محمد محمود کی گرفتاری ضمانت منظور کرلی۔
بعد ازاں محکمانہ کارروائی میں بھی انہیں دیگر افسران کے ہمراہ 2022 میں بری الذمہ قرار دیا گیا۔
اس کے باوجود فوجداری مقدمہ جاری رہا اور جولائی 2022 میں اینٹی کرپشن عدالت نے محمد محمود اور وسیم تابش پر فرد جرم عائد کی۔ دونوں نے الزامات سے انکار کیا۔
28 اپریل 2023 کو خصوصی اینٹی کرپشن عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-K کے تحت محمد محمود اور وسیم تابش کو بری کردیا۔
عدالت کے مطابق استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
محکمانہ بریت اور عدالتی بریت میں فرق
راولپنڈی رنگ روڈ معاملے میں دو الگ کارروائیاں ہوئیں۔
2022 میں محکمانہ انکوائری: محمد محمود اور دیگر افسران کو محکمانہ طور پر بری الذمہ قرار دیا گیا۔
28 اپریل 2023 کو عدالتی فیصلہ: خصوصی اینٹی کرپشن عدالت نے فوجداری مقدمے میں محمد محمود کو بری کردیا۔
اس لیے دونوں فیصلوں کو ایک ہی کارروائی کا حصہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
وفاقی حکومت میں واپسی
محمد محمود بعد ازاں دوبارہ وفاقی حکومت کے اہم عہدوں پر تعینات ہوئے۔
2022 کے آخر تک وہ پیٹرولیم ڈویژن میں ایڈیشنل سیکریٹری انچارج کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
اگست 2023 میں انہیں نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن میں ایڈیشنل سیکریٹری انچارج مقرر کیا گیا۔
گندم درآمد اسکینڈل میں محمد محمود کا کردار کیا تھا؟
نیشنل فوڈ سیکیورٹی میں تعیناتی کے دوران ملک میں نجی شعبے کے ذریعے گندم کی درآمد کا معاملہ اہم موضوع بنا۔
نومبر 2023 میں محمد محمود نے بطور وفاقی فوڈ سیکیورٹی سیکریٹری کہا تھا کہ حکومت ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے گندم درآمد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی کیونکہ نجی درآمد کنندگان پہلے ہی گندم درآمد کر رہے ہیں۔
25 جنوری 2024 کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں نیشنل فوڈ سیکیورٹی سے منتقل کرکے آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) تعینات کردیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن میں محمد محمود کی منتقلی کو گندم تنازع پر معطلی یا کسی مبینہ بدعنوانی کی کارروائی قرار نہیں دیا گیا تھا۔
بعد ازاں نگراں حکومت کے دور میں گندم درآمد کے معاملے پر حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا، تاہم دستیاب ریکارڈ میں محمد محمود کے خلاف اس معاملے میں کسی فوجداری سزا کا ثبوت موجود نہیں ہے۔
اس معاملے میں کیپٹن (ر) محمد محمود کو کیپٹن (ر) محمد آصف سے بھی الگ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ دونوں الگ افسران ہیں۔
آئی ٹی وزارت اور ایل ڈی آئی واجبات کا تنازع
مارچ 2024 میں محمد محمود کو ایڈیشنل سیکریٹری انچارج انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن مقرر کیا گیا۔
جولائی 2024 میں انہیں دوبارہ او ایس ڈی بنا دیا گیا۔
بعد ازاں میڈیا رپورٹس میں ان کی تعیناتی اور منتقلی کو لانگ ڈسٹنس اینڈ انٹرنیشنل (LDI) ٹیلی کام آپریٹرز کے اربوں روپے کے واجبات سے متعلق ایک پالیسی تنازع سے جوڑا گیا۔
رپورٹس میں الزام عائد کیا گیا کہ مجوزہ پالیسی سے بعض نادہندہ آپریٹرز کو ادائیگیوں کی شرائط میں سہولت مل سکتی تھی۔
محمد محمود نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ واجبات کا معاملہ تقریباً 15 سال پرانا ہے۔ ان کے مطابق ان کے دور میں تقریباً 25.5 ارب روپے کے اصل واجبات کی وصولی کے لیے ایک انتظام تجویز کیا گیا تھا، تاہم متعلقہ ریگولیٹری منظوری حاصل نہ ہوسکی۔
دستیاب ریکارڈ میں اس معاملے پر محمد محمود کے خلاف کسی حتمی عدالتی سزا یا جرم ثابت ہونے کا ذکر نہیں ملتا۔
جناح میڈیکل کمپلیکس اور ہاؤسنگ وزارت
نومبر 2025 میں محمد محمود کو ڈیپوٹیشن پر جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا۔
اس کے بعد 8 دسمبر 2025 کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کا اضافی چارج دیا گیا۔
موجودہ سرکاری ڈائریکٹریز میں وہ سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے طور پر درج ہیں۔
ہاؤسنگ سیکریٹری کی حیثیت سے وہ وفاقی سرکاری ملازمین کی ہاؤسنگ اتھارٹی کے منصوبوں سمیت مختلف ترقیاتی امور کی نگرانی کرتے رہے ہیں۔
اب وفاقی صحت کی انتظامی ذمہ داری بھی سنبھالیں گے
26 اگست 2026 کے حکم کے بعد محمد محمود کے پاس ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ساتھ ساتھ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن کی سیکریٹری کی اضافی ذمہ داری بھی آگئی ہے۔
یہ اضافی چارج 3 ماہ یا مستقل سیکریٹری کی تعیناتی تک برقرار رہے گا۔
ان کی تعیناتی پمز نرسری آتشزدگی کے واقعے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی صحت کے انتظامی معاملات پہلے ہی شدید جانچ پڑتال کی زد میں ہیں۔
محمد محمود کو اب ایک ایسے شعبے کی انتظامی نگرانی کرنا ہوگی جہاں اسپتالوں کے انتظام، مریضوں کی حفاظت اور ادارہ جاتی جواب دہی اہم چیلنجز ہیں۔
محمد محمود کا اہم کیریئر ایک نظر میں
1995: سول سروس میں شمولیت
2013: نندی پور پاور پراجیکٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر
2016 تا 2018:سیکریٹری زراعت پنجاب
2018: سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ
2019: سیکریٹری اسکول ایجوکیشن اور بعد ازاں جنگلات، جنگلی حیات و ماہی پروری
دسمبر 2019 تا 2021: کمشنر راولپنڈی ڈویژن
2022 تا اگست 2023:ایڈیشنل سیکریٹری انچارج، پیٹرولیم ڈویژن
اگست 2023 تا جنوری 2024:ایڈیشنل سیکریٹری انچارج، نیشنل فوڈ سیکیورٹی
جنوری تا مارچ 2024: او ایس ڈی
مارچ تا جولائی 2024: ایڈیشنل سیکریٹری انچارج، آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن
2025:چیف ایگزیکٹو آفیسر، جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر
دسمبر 2025 سے: سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس
26 اگست 2026 سے: سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز کا اضافی چارج
محمد محمود سے وابستہ تنازعات اور ان کا نتیجہ
محمد محمود کے کیریئر میں نندی پور پاور پراجیکٹ، راولپنڈی رنگ روڈ، گندم درآمد اور ایل ڈی آئی واجبات جیسے معاملات مختلف اوقات میں زیر بحث رہے۔
تاہم ان معاملات میں الزامات، انتظامی کارروائی اور عدالتی فیصلوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
راولپنڈی رنگ روڈ کیس میں محمد محمود گرفتار ہوئے، مقدمے کا سامنا کیا، محکمانہ انکوائری میں بری الذمہ قرار پائے اور بعد ازاں خصوصی اینٹی کرپشن عدالت نے بھی 28 اپریل 2023 کو انہیں بری کردیا۔
دوسری جانب گندم درآمد اور ایل ڈی آئی واجبات کے معاملات میں دستیاب ریکارڈ محمد محمود کے خلاف کسی حتمی فوجداری سزا کو ثابت نہیں کرتا۔
صحت کے شعبے میں نئی ذمہ داری بڑا امتحان
کیپٹن (ر) محمد محمود کا انتظامی کیریئر مختلف شعبوں میں اہم ذمہ داریوں سے عبارت ہے، تاہم ان کی بعض تعیناتیاں بعد میں انتظامی یا قانونی جانچ پڑتال کی زد میں بھی آئیں۔
اب وہ بیک وقت ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور نیشنل ہیلتھ سروسز کی اہم ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔
وفاقی صحت کے شعبے میں ان کی نئی ذمہ داری ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب پمز نرسری سانحے کے بعد اسپتالوں کے انتظام اور مریضوں کے تحفظ سے متعلق سوالات اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔
ان کی آئندہ کارکردگی کا مرکز صحت کے انتظامی نظام کو مؤثر بنانا، ادارہ جاتی جواب دہی بہتر کرنا اور وفاقی سطح پر طبی سہولیات سے متعلق معاملات کی نگرانی ہوگا۔









