لاہور: نامور مرحوم شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب جالب معاشی حالات سے مجبور ہوکر گھر سے کھانا بنا کر ماڈل ٹاؤن بازار کے قریب ایک ریڑھی پر فروخت کرنے لگیں لیکن انہیں کام سے روک دیا گیا۔
طاہرہ نے مزید بتایا کہ پہلے میونسپل کارپوریشن کےاہلکاروں نے ان کے کام کو آکر سراہا بھی تھا۔لیکن پہلے ہی دن انہیں یہ کام کرنے سے روک دیا گیا۔
طاہرہ حبیب کے مطابق‘ میونسپل کارپوریشن کےاہلکاروںنے کہا کہ آپ حبیب جالب کی بیٹی ہیں اور ریڑھی لگا کر مزدوری کررہی ہیں ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں ، میں نے انہیں جواب دیا کہ محنت میں کوئی شرم نہیں کرنی چاہیئے میں نے تو اپنے باپ سے بھی یہ ہی سیکھا ہے‘۔
لیکن کچھ دیر بعد دوسرے کچھ افراد میری ریڑھی پر آئے اور میرے جاننے والے رکشہ ڈرائیور سے (جو اس وقت وہاں موجود تھا ) کہنے لگے کہ یہ سامان سمیٹو اور کہیں اور جاؤ۔
طاہرہ نے کہا کہ ان افراد نے خود کو میونسپل کارپوریشن کا عملہ ہی ظاہر کیا تھا۔شور ہونے پر جب میں ریڑھی پر پہنچی تو میں نے وجہ پوچھی ،جس پر مجھے جواب دیا گیا کہ آپ اپنا سامان اٹھا لیں اور یہ سب بند کریں ۔
طاہرہ نے کہا کہ میں نے ہزاروں روپے خرچ کرکے یہ سامان تیار کیا تھا میں نے کس دل سے ریڑھی سمیٹی میں ہی جانتی ہوں ۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ شاعر مرحوم حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ اپنے ڈھابے ٹھیئے پر گھر سے بنا کر لائے ہوئے کھانے فروخت کر رہی ہیں، طاھرہ حبیب جالب کو لاھور کے اس مقام پر ڈھابہ لگانے سے روک دیا گیا#Pakistan #punjab #Lahore pic.twitter.com/YYNxWPXWfF
— Muhammad Kamran (@mkamran04) August 20, 2026
طاہرہ نے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور سوال اٹھایا کہ نامور شاعر کی بیٹی ہونے کے باوجود جب ان کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہے تو ایک عام شہری کے ساتھ کیا کیا جاتا ہوگا؟ وہ بھی ایک ایسے صوبے میں جس کا نظام خود ایک خاتون وزیر اعلی کے ہاتھ میں ہو!
اس ویڈیو پر وزیر ثقافت سندھ نے بھی نوٹس لے کر طاہرہ حبیب سے رابطہ کیا تھا۔ذولفقار علی شاہ نے طاہرہ حبیب کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ ان کا رابطہ گورنر پنجاب سے کروائیں گے ۔
مزید پڑھیں:ن لیگ سیاست کو انکروچ کرکے فارم 47 پر بیٹھی ہوئی ہے،حافظ نعیم
میڈیاسے گفتگو میں طاہرہ نے بتایا کہ ابھی تک ان سے پنجاب حکومت میں سے کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ نامور شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب جالب نے ریڑھی لگانے کے لیے جون میں ڈی سی آفس لاہور میں درخواست جمع کروائی تھی۔
درخواست کےمتن میں طاہرہ نے حکومت پنجاب سے ماڈل ریڑھی بازار منصوبے کے تحت ریڑھی لگانے کی درخواست کی تھی۔طاہرہ حبیب نے بتایا کہ یہ درخواست کس وجہ سے ردکی گئی انہیں اس کی وجہ نہیں معلوم ۔
مجھے کہا گیا کہ آپ ریڑھی حاصل کرنے کے حکومتی پیمانے پر پوری نہیں اترتیں ، مجھے حیرت ہوئی کہ اگر کوئی وجہ تھی تو مجھے وہ جاننے کا بحیثیت شہری حق ہے اس کے باوجود مجھے کوئی وجہ نہیں بتائی گئی’۔
انہوں نے تصدیق کی کہ ان سے بھتہ دے کر ریڑھی لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے یہ درخواست پرویز رشید کو بھی بھیجی تھی کہ کوئی کارروائی کی جاسکے۔
‘میں 2014 سے پرائیویٹ کیب سروس چلا رہی ہوں جس سے میں نے اپنی گاڑی کی قسطیں بھری ہیں میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا اچھا نہیں سمجھتی اور محنت مزدوری کرنے کو ترجیح دیتی ہوں، سوال یہ ہے کہ درخواست رد کی جارہی ہے اور بھتے کا مطالبہ کیا جارہا ہے یہ کون سا قانون ہے؟’
طاہرہ نے کہا کہ میں پنجاب حکومت سے درخواست نہیں انہیں تجویز کروں گی وہ اپنے پیمانوں کو واضح اور نرم کریں تاکہ خواتین بھی اپنے روزگار کو چلا سکیں۔
بعد ازاں سندھ کے صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت نوادرات سید ذوالفقار علی شاہ نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور طاہرہ حبیب جالب سے رابطہ کیا اور طاہرہ حبیب جالب کو روزگار میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
طاہرہ حبیب جالب نے صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ سے محکمہ بلدیہ پنجاب کے رویے پر شکایت کی۔صوبائی وزیر نے متعلقہ وزیر سے بات کرکے معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
صوبائی وزیر نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کو طاہرہ حبیب جالب سے ملاقات کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ حبیب جالب مرحوم کے خاندان کا خیال رکھا جائے گا پاکستان پیپلزپارٹی ان کیساتھ ہے۔









