اسلام آباد: پاور ڈویژن کے ترجمان نے کہا ہے کہ آر ایل این جی کی عدم دستیابی اور کارگو بروقت نہ پہنچنے کے باعث گزشتہ رات بجلی کی پیداوار میں کمی ہوئی۔
جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں میں رات کے پیک اوقات کے دوران ڈیڑھ سے 3 گھنٹے تک عارضی لوڈ مینجمنٹ کی گئی۔
آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث 3600 میگاواٹ بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی، جبکہ منگلا سے پیداوار میں بھی 195 میگاواٹ کمی ریکارڈ کی گئی۔
بجلی کی بڑھتی طلب پوری کرنے کے لیے رات کے پیک اوقات میں فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھروں کو بھی بروئے کار لایا گیا۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ آر ایل این جی کے کارگو پہنچتے ہی عارضی لوڈ مینجمنٹ میں بتدریج کمی کردی جائے گی۔ صارفین سے اپیل کی گئی ہے کہ رات کے پیک اوقات میں بجلی کے استعمال میں اعتدال رکھیں تاکہ لوڈ مینجمنٹ کو کم سے کم سطح پر رکھا جاسکے۔
دن کے اوقات میں کوئی لوڈ مینجمنٹ نہیں کی جارہی، تاہم جن علاقوں میں نقصانات اور بجلی چوری کی شرح کے باعث لوڈ مینجمنٹ کی جاتی ہے، وہاں مقررہ شیڈول کے مطابق بجلی کی فراہمی جاری ہے۔
مزید پرھیں:ناکافی سہولیات، ہرچیز غیر معیاری، سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش
پاور ڈویژن نے آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث صارفین کو رات کے اوقات میں پیش آنے والی عارضی لوڈ مینجمنٹ پر معذرت کا اظہار بھی کیا ہے۔









