انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سمیت میچز میں مسلسل ناکامیوں اور ناقص کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں قومی ٹیم اور مینجمنٹ میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے۔
کرکٹ بورڈ کے اس اچانک اور سخت فیصلے پر عالمی اور قومی کرکٹ حلقوں میں شدید حیرت اور ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انگلینڈ کے سابق اسٹار بلے باز کیون پیٹرسن نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ”میں پاکستان کے بارے میں یہ کیا پڑھ رہا ہوں کہ اتنی بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور کھلاڑیوں کو گھر واپس بھیجا جا رہا ہے، یہ یقیناً سچ نہیں ہو سکتا۔“
What on this might planet am I reading about Pakistan making all these changes and sending players home etc…
It can’t be real?! Surely?!
— Kevin Pietersen🦏 (@KP24) August 31, 2026
اسی طرح پاکستان کے سابق کپتان اظہر علی نے مختصر ردِعمل دیتے ہوئے اسے نہایت افسوسناک قرار دیا۔
Sad 😢 #PakistanCricket
— Azhar Ali (@AzharAli_) August 31, 2026
معروف بھارتی کرکٹ مبصر ہرشا بھوگلے نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”پاکستان کرکٹ سے ہی ایسی ناقابلِ یقین باتوں کی توقع کی جا سکتی ہے، جہاں سلمان آغا پہلے ٹیسٹ میں کپتان تھے، دوسرے ٹیسٹ سے ڈراپ ہوئے اور تیسرے سے پہلے گھر بھیج دیے گئے، جبکہ کوچ اور بالنگ کوچ کو سیریز کے درمیان ہی فارغ کر دیا گیا۔“
Trust Pakistan cricket to do the unbelievable. Salman Agha, captain in the first test, dropped from the second, sent home before the third! Coach and bowling coach gone midway through a series. Senior keeper sent home. Replacements hoping to get visas in time, let alone be ready…
— Harsha Bhogle (@bhogleharsha) August 31, 2026
ان کا مزید کہنا تھا کہ سینئر وکٹ کیپر کو واپس بھیج دیا گیا اور ان نعم البدل کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جو امید کر رہے ہیں کہ انہیں ٹیسٹ میچ سے پہلے ویزا مل جائے، ہمیشہ کی طرح میدان سے باہر زیادہ ڈرامائی ایکشن جاری ہے۔“
مزیدپڑھیں:نیتن یاہو نے امریکا کو ایران جنگ میں دھکیلنے کا اعتراف کر لیا: عباس عراقچی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی سلیکشن کمیٹی کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ”اس فیصلے کے پیچھے کیا منطق یا دلیل ہے اور جو نعم البدل شامل کیے گئے ہیں ان کی بھی کوئی سمجھ نہیں آ رہی کیونکہ انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑیوں کو شامل کر لیا گیا ہے۔“
Not sure what is the logic or reasoning behind this decision! Even the replacements make no sense – T20 players have been included for a Test match in England? What is this thinking and approach? Why has the coach been axed after 5 Test matches? This is the most shocking decision…
— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) August 31, 2026
شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ”یہ کیسی سوچ اور اپروچ ہے کہ صرف پانچ ٹیسٹ میچوں کے بعد کوچ کو ہی فارغ کر دیا جائے، یہ اتنے تجربہ کار سلیکٹرز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کا اب تک کا سب سے زیادہ حیران کن اور غیر منطقی فیصلہ ہے۔“
واضح رہے کہ چھ میں سے پانچ میچوں میں شکست کے بعد ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بالنگ کوچ عمر گل کو سیریز کے درمیان ہی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اب مائیک ہیسن کو ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے جبکہ ایشلے نوفکے کو نیا بالنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ انگلینڈ کے خلاف نو ستمبر سے برمنگھم میں شروع ہونے والے آخری ٹیسٹ میچ کے لیے محمد رضوان، سلمان علی آغا اور امام الحق سمیت سات سینئر کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے، جبکہ صائم ایوب، عرفات منہاس اور عبداللہ شفیق سمیت سات نئے کھلاڑیوں کو اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
Pakistan have dropped seven players and two coaches ahead of the final Test against England 🇵🇰 pic.twitter.com/856wQMVhXy
— Sky Sports Cricket (@SkyCricket) August 31, 2026
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امام الحق کی انجری کے معاملے پر شکایات سامنے آنے کے بعد بورڈ نے اس کی باقاعدہ تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔









