بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کچھ بھی ناممکن نہیں: عالمی ریکارڈ یافتہ کوہ پیما نرمل پرجاکون تھے؟

— دنیا بھر میںکچھ بھی ناممکن نہیں (Nothing is Impossible) کا نعرہ حقیقت میں بدلنے والے نیپال کے نامور عالمی ریکارڈ یافتہ کوہ پیما نرمل پرجا (Nirmal Purja) پاکستان کی 8000 میٹر سے بلند چوٹی براڈ پیک (Broad Peak) کو دوسری بار تیز ترین رفتار سے سر کرنے کی کوشش کے دوران المناک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ 43 سالہ نرمل پرجا سلسلہ قراقرم میں اچانک آنے والے ایک بڑے برفانی تودے (Avalanche) کی زد میں آئے، جس کے نتیجے میں ان کے ساتھ موجود 10 مزید کوہ پیما بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

حادثہ

نیپال میں پیدا ہونے والے نرمل پرجا کو بچپن ہی سے پہاڑوں اور مہم جوئی کا جنون تھا۔ تاہم ان کی عملی زندگی کا سفر روایتی کوہ پیمائی سے ذرا مختلف رہا۔ انہوں نے 2003ء میں برطانوی فوج کی مشہور ‘گورکھا رائفلز میں شمولیت اختیار کی اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے بل بوتے پر 6 سال بعد برطانوی بحریہ کے بااعتماد اور معزز دستےاسپیشل بوٹ سروس (SBS) میں جگہ بنانے والے پہلے گورکھا سپاہی بنے۔ انتہائی بلندیوں پر فوجی و انسانی خدمات کے اعتراف میں 2018ء میں ملکہ برطانیہ نے انہیں برطانوی سلطنت کے اعلیٰ ترین اعزاز (Member of the Order of the British Empire – MBE) سے نوازا۔

پہاڑ

عسکری خدمات سے ریٹائرمنٹ کے بعد نرمل پرجا نے 2019ء میں اپنا تاریخی اور ناممکن دکھائی دینے والا منصوبہ پراجیکٹ پوسیبل (Project Possible) شروع کیا۔ اس منصوبے کے تحت انہوں نے دنیا کی تمام 14 ایسی چوٹیاں—جن کی بلندی 8000 میٹر سے زائد ہے—صرف 6 ماہ اور 6 دن کی قلیل مدت میں سر کر کے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ اس سے قبل یہ تمام چوٹیاں سر کرنے کا سب سے کم وقت 7 سال 11 ماہ اور 14 دن تھا، جس کے بعد دنیا نے تسلیم کیا کہ نرمل نے واقعی ناممکنات کو ممکن بنا دکھایا ہے۔

سال 2021ء میں نرمل پرجا نے تاریخ کا ایک اور حیران کن معرکہ سر کیا۔ انہوں نے 10 نیپالی کوہ پیماؤوں کی قیادت کرتے ہوئے دنیا کی دوسری بلند ترین اور سب سے مشکل چوٹی کے ٹو (K2) کو شدید موسمِ سرما (Winter Ascent) میں سر کیا، اور یہ کارنامہ انہوں نے اضافی آکسیجن سلنڈر کے بغیر انجام دے کر دنیا بھر کے ماہرین کو حیرت زدہ کر دیا۔ مشہور سٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس (Netflix) نے ان کی اس تاریخی پیش رفت پر 14 Peaks: Nothing Is Impossible کے نام سے ایک عالمی ڈاکیومنٹری جاری کی، جس نے نیپالی شرپاؤں اور کوہ پیماؤں کی قربانیوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔

par ja

اس سال نرمل پرجا دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو ایک بار پھر ریکارڈ وقت میں سر کرنے کی مہم پر پاکستان میں موجود تھے، جہاں براڈ پیک کی چڑھائی کے دوران شدید برفانی تودہ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی زندگیوں کا خاتمہ کر گیا۔ یہ المناک حادثہ 30 جولائی 2026ء کی صبح (تقریباً ساڑھے نو بجے) گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (8051 میٹر) پر کیمپ 2 اور کیمپ 3 کے درمیانی راستے میں پیش آیا۔نرمل پرجا (نمز دائی) اس مہم کے ذریعے دنیا کے پہلے شخص بننے جا رہے تھے جنہوں نے دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو تین بار (اور بغیر آکسیجن سلنڈر کے دو بار) سر کرنے کا ریکارڈ بنانا تھا۔ براڈ پیک ان کی اس تیسری تاریخی مہم کا 13واں پہاڑ تھا۔اس تباہ کن برفانی تودے (Avalanche) میں نرمل پرجا کے ساتھ مجموعی طور پر 10 کوہ پیما جان کی بازی ہار گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں نیپال کے تجربہ کار شیرپا گائیڈز (بشمول پور بہادر گرونگ یوکتا اور کیلی پیمبا شیرپا)، پاکستان کے معروف کوہ پیما سہیل سخی، امریکہ سے تعلق رکھنے والی کوہ پیما مالوری گیز، عمان کی نضیرہ الحارثی اور چین کے کوہ پیما چوانگ چونگ شامل تھے۔

سیٹلائٹ جی پی ایس ٹریکرز کے مطابق، برفانی تودہ اتنے شدید دباؤ کے ساتھ آیا کہ کوہ پیما چند سیکنڈوں میں 800 میٹر (تقریباً 2600 فٹ) نیچے آ گرے۔ نرمل پرجا اور دیگر ساتھیوں کے جی پی ایس سگنلز 5800 میٹر کی بلندی پر رک گئے تھے۔ الپائن کلب آف پاکستان، پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور کے ٹو بیس کیمپ پر موجود دیگر بین الاقوامی کوہ پیماؤں نے مل کر سرچ آپریشن میں حصہ لیا۔ یکم اگست کو نرمل پرجا کی کمپنی EliteExped نے تمام 10 کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کی اور بعد ازاں ان کی میتیں نیچے لائی گئیں۔

نرمل پرجا صرف ریکارڈ بنانے کے لیے ہی نہیں بلکہ ڈیتھ زون (8000 میٹر سے اوپر) میں پھنسے دیگر غیر ملکی کوہ پیماؤں کی جان بچانے کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ انہوں نے اناپورنا اور دیگر چوٹیوں پر متعدد بار اپنی مہمات کو روک کر دوسروں کو زندگی دی تھی۔نرمل پرجا کی اس اچانک اور المناک موت نے دنیا بھر میں کوہ پیمائی کی برادری کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا، لیکن ان کی حیات اورکچھ بھی ناممکن نہیں کا فلسفہ ان کی میراث کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔ نرمل پرجا کا سفر چاہے ایڈونچر ہو، جنون یا تاریخی شجاعت، مگر انہوں نے اپنی زندگی سے دنیا کو یہ پیغام ہمیشہ کے لیے دے دیا کہ ہمت اور عزم کے سامنےکچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔

میت

اس مہم پر روانہ ہونے سے قبل ایکس پر اپنی پوسٹ میں پرجا کا کہنا تھا کہ شروع میں ان کا براڈ پیک سر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن پاکستان روانہ ہونے سے پہلے انھیں احساس ہوا کہ اگر وہ وہاں قیام کے دوران اسے بھی سر کر لیتے ہیں تو ’آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 پہاڑوں کو (بغیر آکسیجن کے) دو مرتبہ سر کرنے والے تاریخ کا پہلا فرد‘ بننے کے لیے صرف ایک اور پہاڑ سر کرنا باقی رہ جائے گا۔ایکس پر پرجا نے لکھا تھا کہ ’اے براڈ پیک میں تجھ سے صرف اُوپر جانے اور بحفاظت واپس آنے کا طلبگار ہوں۔ میں کسی بھی پہاڑ کو معمولی یا یقینی نہیں سمجھتا۔‘

نرمل پرجا کی ہلاکت کی تصدیق نیپال کے وزیرِ اعظم بالن شاہ نے بھی کی۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’پاکستان کے قراقرم پہاڑی سلسلے میں عالمی ریکارڈ ہولڈر نرمل پرجا سمیت چھ نیپالی اور چار دیگر غیر ملکی کوہ پیماؤں کی المناک ہلاکت نے ہمیں صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ’ان کی جرات، لگن اور خدمات کی تاریخ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔