روس نے جرمنی کی جانب سے روسی قونصل خانے اور ثقافتی مرکز بند کرنے کے فیصلے کے جواب میں سینٹ پیٹرزبرگ میں جرمن قونصل جنرل بند کرنے کا اعلان کردیا۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ میں جرمن قونصل خانہ 18 ستمبر تک اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر بند کردے گا، جبکہ روس میں جرمنی کے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے ثقافتی مراکز بھی اپنی سرگرمیاں ختم کریں گے۔
وزارت خارجہ نے بتایا کہ گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے عملے کو بھی 13 ستمبر تک روس چھوڑنے کی ہدایت۔روس کا یہ اقدام جرمنی کی جانب سے بون میں روسی قونصل خانے اور برلن میں روسی ثقافتی مرکز بند کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔
جرمنی نے یہ اقدامات روس پر لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کا الزام عائد کرنے کے بعد کیے تھے۔ ماسکو نے جرمن الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’من گھڑت کہانی‘ قرار دیا تھا۔
4 اگست کو مشرقی جرمنی کے لیپزگ ایئرپورٹ پر ایک ڈرون ملا تھا، جس میں دھماکا خیز مواد نصب تھا اور جو یوکرین کے قریب موجود کارگو طیاروں کی جانب پرواز کر رہا تھا۔ تاہم ڈیٹونیٹر میں مبینہ خرابی کے باعث دھماکا نہیں ہوسکا۔
تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ایک دوسرے ڈرون کی قریبی کارگو طیارے سے ٹکر ہوئی، جبکہ 10 روز بعد ایئرپورٹ کے قریب ایک تیسرے ڈرون کی موجودگی کی بھی اطلاع ملی تھی۔
روسی وزارت خارجہ نے بیان میں جرمنی کو موجودہ کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرمن حکام نے ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کا نیا دور شروع کیا ہے اور اس کے نتائج کی ’مکمل ذمہ داری‘ جرمن حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری جانب جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے لیپزگ ایئرپورٹ کے واقعے کو یورپ میں روسی ’ہائبرڈ کارروائیوں‘ کے طویل عرصے سے جاری طریقہ کار کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ جرمنی کو دوبارہ بھی نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حوثی باغیوں کے حملے، 73 افراد زخمی
ادھر جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ریاست سیکسنی انہالٹ میں روس نواز جماعت اے ایف ڈی کی انتخابی کامیابی سے یوکرین کے لیے وفاقی حکومت کی حمایت متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے جرمنی کی داخلی سلامتی کو درپیش ’انتہائی ٹھوس خطرے‘ سے بھی خبردار کیا۔مرز نے کہا کہ مشرقی جرمنی میں ہونے والے انتخابی نتائج سے روس کو خوشی ہوئی ہوگی۔









