انگلینڈ کے خلاف سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے پہلے دن پہلے ہی سیشن میں پاکستان کی پوری ٹیم شدید ٹاپ آرڈر اور مڈل آرڈر کولاپس کا شکار ہو کر پہلی اننگز میں محض 33.5 اوورز میں 133 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ ایڈجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو ان کے فاسٹ بولرز نے مکمل طور پر درست ثابت کر دکھایا۔
پاکستان کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا اور انگلش اٹیک کے سامنے قومی اوپنرز بے بس نظر آئے۔ صائم ایوب 10 گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے جبکہ اذان اویس نے 16 گیندوں پر 8 رنز بنائے۔ ون ڈاؤن پر آنے والے عبداللہ شفیق بھی کچھ خاص نہ کر سکے اور 15 گیندوں پر صرف 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔سابق کپتان شان مسعود 11 گیندوں پر محض 5 رنز بنا سکے جبکہ کپتان بابر اعظم بھی جدوجہد کرتے نظر آئے اور 7 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے صرف 6 رنز بنا کر چلتے بنے۔
ایسے وقت میں جب وکٹیں پت جھڑ کے پتے کی طرح گر رہی تھیں، سعود شکیل نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 33 گیندوں پر 47 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ مڈل آرڈر کی ناکامی کے بعد لوئر آرڈر میں محمد عباس نے کچھ مقاومت دکھائی اور 21 رنز بنا کر اسکور کو آگے بڑھایا، تاہم غازی غوری 4 رنز، محمد عمران 5 رنز اور رضوان اللہ 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ محمد علی 19 گیندوں پر 5 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
پاکستان کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرنے میں انگلش پیسرز جیمز ٹنگ اور جوفرا آرچر نے مرکزی کردار ادا کیا۔ جیمز ٹنگ نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 10 اوورز میں 42 رنز دے کر 4 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری جانب جوفرا آرچر نے 7.5 اوورز میں 25 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستانی بیٹسمینوں کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔









