بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سمندر میں 438 دن: ماہی گیر ہوزے سلواڈور الوارینگا کی 13 ماہ طویل معجزانہ بقاء کی مکمل داستان

میکسیکو کے ساحل سے مچھلیاں پکڑنے کے لیے نکلنے والے ایل سلواڈور کے ماہی گیر ہوزے سلواڈور الوارینگا سمندر میں مسلسل 438 دن انتہائی کٹھن حالات کا مقابلہ کرنے کے بعد معجزانہ طور پر زندہ سلامت خشکی پر پہنچ گئے۔

میکسیکو: 17 نومبر 2012 کو ایل سلواڈور سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر ہوزے سلواڈور الوارینگا اپنے 22 سالہ نوجوان ساتھی ایزیکوئیل کورڈوبا کے ساتھ میکسیکو کے ساحل سے مچھلیاں پکڑنے کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کا بنیادی منصوبہ محض چند دنوں تک سمندر میں قیام کر کے مچھلیاں پکڑنے کا تھا، لیکن انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ مختصر اور عام سا سفر 438 دنوں کے انتہائی طویل اور دردناک امتحان میں تبدیل ہو جائے گا اور ان دونوں میں سے صرف ایک ہی شخص دوبارہ خشکی اور انسانی آبادی کو دیکھ پائے گا۔

سفر کے آغاز کے کچھ ہی دیر بعد ایک غیر متوقع اور شدید ترین سمندری طوفان نے ان کی چھوٹی سی کشتی کو ہر طرف سے گھیر لیا۔ طوفان کی شدت کے باعث کشتی کا انجن مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا، جبکہ رابطہ کاری کے تمام ذرائع یعنی ریڈیو اور جی پی ایس (GPS) سسٹم نے بھی اچانک کام کرنا چھوڑ دیا۔ سمندر کی بلند اور خوفناک لہریں تیزی سے کشتی کے اندر پانی بھرنے لگیں جس پر دونوں ماہی گیروں نے مسلسل کئی گھنٹوں تک بالٹیوں کی مدد سے پانی باہر نکالنے کی کوشش کی۔ جب سمندری ہواؤں، شدید سردی اور طوفان کا دباؤ ناقابل برداشت حد تک بڑھ گیا، تو انہوں نے کشتی میں موجود ایک بڑے، تقریباً فریج کے سائز جتنے کولر باکس کو الٹا کیا اور اپنی جان بچانے کے لیے خود کو اس کے اندر بند کر لیا۔ باہر بے رحم سمندر ان کی کشتی کو کھلونے کی طرح اچھال رہا تھا اور اندر یہ دو انسان ایک دوسرے کو تھامے زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے۔

طوفان تھم جانے کے بعد بھی ان کی مشکلات کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ انجن مکمل خراب ہو جانے کے سبب ان کی بیڑہ بے سمت ہو کر وسیع و عریض بحرالکاہل کے رحم و کرم پر بہنے لگا۔ کشتی پر موجود خوراک اور پینے کے پانی کا ذخیرہ انتہائی محدود تھا۔ زندہ رہنے کے لیے دونوں نے جو بھی ممکن ہوا، وہی کیا۔ وہ سمندر سے مچھلیاں پکڑ کر کچی ہی کھاتے، بعض اوقات انہیں جیلی فش تک کھانی پڑتی اور جب بھی بارش ہوتی تو وہ کپڑوں اور برتنوں کی مدد سے بارش کا پانی جمع کرتے۔ تاہم، جب بارش نہ ہوتی تو پانی کی شدید اور جان لیوا قلت پیدا ہو جاتی۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے الوارینگا نے سمندر میں تیرتی ہوئی پلاسٹک کی خالی بوتلیں اور دیگر برتن جمع کرنا شروع کر دیے تاکہ بارش کے پانی کا ایک ایک قطرہ محفوظ کیا جا سکے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب بقاء کی اس جنگ میں انہیں سمندری کچھوے پکڑ کر ان کا گوشت اور خون تک استعمال کرنا پڑا۔

وقت تیزی سے گزرتا رہا اور دن ہفتوں میں جبکہ ہفتے مہینوں میں بدلتے گئے۔ اس طویل اور بے رحم سفر کی سختیوں، بھوک، پیاس اور ذہنی تناؤ کو الوارینگا کا 22 سالہ ساتھی ایزیکوئیل کورڈوبا مزید برداشت نہ کر سکا۔ وہ سخت بیمار پڑ گئے، شدید مایوسی کا شکار ہوئے اور بالآخر ان کی موت واقع ہو گئی۔ اپنے ساتھی کی ہلاکت کے بعد الوارینگا اس چھوٹی سی کشتی پر وسیع سمندر کے بیچ بالکل اکیلے رہ گئے۔ انہیں نہ تو اپنی درست سمت کا کوئی علم تھا اور نہ ہی یہ اندازہ تھا کہ خشکی کا ساحل ان سے کتنے ہزار میل دور ہے۔ وقت کا حساب اور اندازہ رکھنے کے لیے وہ رات کو آسمان پر چاند کے مختلف مراحل اور شکلوں کو گنتے اور کبھی کبھار افق پر کسی دور گزرتے ہوئے جہاز یا پرندے کو دیکھ کر بچ جانے کی امید باندھتے۔

شہری سمندر میں02

ان کے لیے وہی چھوٹی سی بوسیدہ کشتی ان کا واحد گھر بن چکی تھی۔ وہ سمندری پرندوں، مچھلیوں اور کچھوؤں سے خوراک حاصل کرتے اور بارش کے پانی کو انتہائی احتیاط سے محفوظ رکھتے رہے۔ شدید کڑکتی دھوپ، بھوک، پیاس، ناقابلِ برداشت تنہائی اور شدید ذہنی و نفسیاتی دباؤ کے باوجود انہوں نے کبھی ہمت نہ ہاری اور اپنے ذہن میں صرف ایک ہی بنیادی اصول قائم رکھا کہ انہیں ہر حال میں اگلا دن دیکھنا ہے۔

بالآخر 30 جنوری 2014 کو، میکسیکو کے ساحل سے روانگی کے پورے 438 دن بعد، ان کی آرزو پوری ہوئی اور انہیں دور افق پر خشکی دکھائی دی۔ وہ بہتے ہوئے مارشل جزائر کے ایک انتہائی دور افتادہ اور غیر معروف علاقے تک پہنچ گئے۔ جب مقامی پولیس اور لوگوں نے انہیں دیکھا تو ان کے سر کے بال اور داڑھی بے ترتیب بڑھے ہوئے تھے، جسمانی طور پر انتہائی کمزور اور سوجی ہوئی ٹانگوں کے باعث وہ بمشکل چل پا رہے تھے۔ پولیس اہلکاروں کو دیکھتے ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ شخص انتہائی طویل اور غیر معمولی عرصے سے سمندر میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتا رہا ہے۔

اس تاریخی اور معجزانہ واقعے کے بعد بین الاقوامی صحافی جوناتھن فرینکلن نے الوارینگا سے 40 سے زائد تفصیلی اور باریک بین انٹرویوز کیے اور ان کے اس خوفناک مگر ہمت سے بھرپور سفر کو ایک کتاب کی صورت میں قلمبند کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یوں صرف اگلے بہتر دن کی امید اور غیر متزلزل عزم کے سہارے الوارینگا 438 دنوں تک سمندری طوفانوں اور خوفناک حالات کا مقابلہ کرتے رہے اور بالآخر موت کے منہ سے زندہ نکل آئے۔