بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نئے صوبوں کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کا اعلان؛ اسلام آباد صوبہ نہیں بن رہا، طارق فضل چوہدری

وفاقی حکومت نے ستمبر کے بعد اکتوبر میں منعقد ہونے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر تفصیلی بحث کرانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

اسلام آباد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے میڈیا نمائندوں سے اہم گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر کے مہینے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے باضابطہ اجلاس منعقد نہیں ہو رہے ہیں، تاہم اکتوبر میں پارلیمان کے جو اجلاس بلائے جا رہے ہیں ان میں نئے صوبوں کے قیام کے اہم اور حساس معاملے پر کھلی بحث کرائی جائے گی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام اور اس سے جڑے تمام آئینی و سیاسی امور پر بحث کا اصل اور حقیقی مقام پارلیمنٹ ہاؤس ہی ہے، جہاں عوامی نمائندے اس پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔

وفاقی دارالحکومت سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر وضاحت دیتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح طور پر کہا کہ اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے کے حوالے سے کوئی بھی تجویز زیرِ غور نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کوئی بات ہوئی ہے۔ تاہم، وفاقی دارالحکومت کے انتظامی اور بلدیاتی اموز کو زیادہ موثر اور فعال بنانے کے لیے ایک نیا اور جدید گورننس ماڈل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں روایت سے ہٹ کر بلدیاتی نظام کے بجائے ایک بالکل نیا اور منفرد انتظامی نظام متعارف کرانے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس نئے زیرِ تجویز فریم ورک کے تحت اسلام آباد کے لیے 27 رکنی اسمبلی تشکیل دی جائے گی، جبکہ انتظامی امور کی سربراہی اور چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ سنبھالنے کے لیے وزیراعلیٰ یا میئر کا عہدہ تخلیق کیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں مقامی حکومتوں سے متعلق آرڈیننس کی قانونی مدت معیاد اب ختم ہو چکی ہے۔ 9 جنوری 2026 کو جاری کیے جانے والے اس اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو نافذ ہوئے 240 ایام سے زائد کا وقت گزر چکا ہے، جس کے باعث وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک نئے اور پائیدار قانونی و انتظامی نظام کی تشکیل لازمی قرار دی جا رہی ہے۔