امریکی ریاست ایڈاہو میں ڈسک گالف کے چار کھلاڑیوں نے مسلسل 60 کوششوں کے بعد محض 44.31 سیکنڈ میں ہول مکمل کر کے تیز ترین ڈسک گالف کا گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
آئیڈاہو: چار رکنی ٹیم کی جانب سے تیز ترین ڈسک گالف ہول کا گنیز ورلڈ ریکارڈ بنانے کا یہ منفرد اور عالمی کارنامہ امریکی ریاست ایڈاہو میں پیش آیا، جہاں 200 سے زائد عالمی گنیز ریکارڈز اپنے نام کرنے والے ڈیوڈ رش نے اپنے دوست ٹریوس ڈیوڈسن اور ان کے دو بیٹوں اینڈرس ڈیوڈسن اور اولیور ڈیوڈسن کے ساتھ مل کر اس چیلنج کو قبول کیا۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز کے سخت قوانین اور ضوابط کے مطابق اس عالمی ریکارڈ کے قیام کے لیے ڈسک گالف کورس کے ہول کا کم از کم 200 میٹر طویل ہونا لازمی تھا۔ اس شرط کو پورا کرنے کے لیے کھلاڑیوں کی اس چار رکنی ٹیم نے ملارڈ پارک میں واقع پی ڈی جی اے (PDGA) سے تصدیق شدہ ہول کا انتخاب کیا تاکہ عالمی معیار کے مطابق ریکارڈ کی کوشش کی جا سکے۔
ڈیوڈ رش کے مطابق اس عالمی ریکارڈ کی کوشش کا آغاز درجنوں ناکام تجربات اور چیلنجز کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا اور ٹیم کو متعدد بار دوبارہ شروعات کرنا پڑیں، تاہم مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر ان کی 60 ویں کوشش میں تمام کھلاڑیوں کی شاٹس بالکل درست سمت میں لگیں اور تمام عوامل ان کے حق میں سازگار ثابت ہوئے۔
کامیاب کوشش کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ڈیوڈ رش نے بتایا کہ انہوں نے سب سے پہلے فیئر وے پر ایک انتہائی بہترین اور مضبوط ڈرائیو شاٹ کھیلی، جس کے فوراً بعد ٹریوس ڈیوڈسن نے بہترین فالو اپ شاٹ سے ڈسک کو آگے بڑھایا، جبکہ اولیور ڈیوڈسن نے اس رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے شاندار شاٹ لگائی۔ اس کے بعد اینڈرس ڈیوڈسن نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے ڈسک کو بالکل ٹارگٹ اور باسکٹ کے قریب پھینک دیا۔
ڈیوڈ رش کے مطابق اس پوائنٹ کے بعد اصل امتحان وقت کا مقابلہ اور تیز ترین دوڑ تھی، جہاں انہیں 41 سیکنڈ تک مسلسل چڑھائی کی سمت سخت محنت سے دوڑنا پڑا تاکہ وہ وقت ختم ہونے سے پہلے ڈسک کو پکڑ کر باسکٹ کے اندر مکمل طور پر لاک اور محفوظ کر سکیں۔ چاروں کھلاڑیوں کی اس مربوط حکمتِ عملی، باہمی ہاہمی ہم آہنگی اور تیز رفتار دوڑ کی بدولت یہ پورا ہول محض 44.31 سیکنڈ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہو گیا، جس کے ساتھ ہی ان کی ٹیم کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈز کی کتاب میں سنہرے حروف سے درج ہو گیا۔









