بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایپل واچ کے نئے AI فیچرز نے پرائیویسی،جاسوسی قوانین پر سوال اٹھا دیئے

 ایپل کی نئی Apple Watch Series 12 اور Ultra 4 میں متعارف کرائے گئے مصنوعی ذہانت کے ایسے فیچرز نے قانونی ماہرین کی توجہ حاصل کرلی ہے جو صارفین کی گفتگو کو سننے اور اس کا خلاصہ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ  کے مطابق قانونی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایپل واچ کے نئے ’’ہمیشہ سننے‘‘ والے AI فیچرز مختلف ممالک میں رائج جاسوسی اور پرائیویسی قوانین کے لیے ایک نیا امتحان ثابت ہوسکتے ہیں۔

ایپل نے بدھ کو Siri Recap نامی فیچر متعارف کرایا، جو صارف کی جانب سے دن بھر کی گئی گفتگو کے خلاصے تیار کرسکتا ہے۔

اس کے علاوہ Live Rewind نامی فیچر بھی پیش کیا گیا ہے، جس کے ذریعے صارف اپنی گفتگو کے گزشتہ 15 سیکنڈز کا تحریری ٹرانسکرپٹ دیکھ سکتا ہے۔ یہ فیچر Apple Watch کے کراؤن کو دو مرتبہ دبانے سے فعال کیا جاسکتا ہے۔

 نئے فیچرز نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ اگر واچ کسی گفتگو کو سن یا ٹرانسکرائب کررہی ہو تو اس گفتگو میں شامل دوسرے افراد کی رضامندی کے قانونی تقاضے کیا ہوں گے۔

مزیدپڑھیں:سونے سے لدی دلہن اور ‘منی لانڈرنگ’: ترکیہ میں نئی بحث چھڑ گئی

قانونی ماہرین کے مطابق مختلف ریاستوں اور ممالک میں گفتگو ریکارڈ کرنے یا سننے سے متعلق قوانین مختلف ہیں۔ بعض مقامات پر کسی گفتگو کو ریکارڈ کرنے کے لیے تمام شرکا کی رضامندی ضروری ہوسکتی ہے، جس کے باعث ایسی ٹیکنالوجی کے استعمال میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

ایپل کی نئی ٹیکنالوجی اس بحث کو بھی دوبارہ نمایاں کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور پہننے والی ڈیوائسز صارفین کی روزمرہ زندگی میں کس حد تک گفتگو اور معلومات کو پراسیس کرسکتی ہیں۔

یوں Apple Watch کے نئے AI فیچرز جہاں صارفین کے لیے گفتگو کا خلاصہ اور حالیہ بات چیت کو دوبارہ دیکھنے جیسی سہولتیں فراہم کرتے ہیں، وہیں پرائیویسی، رضامندی اور جاسوسی قوانین سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔