نیویارک : رات کی نیند کے بعد انسان معمولی حد تک ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو سکتا ہے، تاہم صبح کے وقت ایک گلاس پانی پینے سے نہ صرف پانی کی کمی پوری ہوتی ہے بلکہ یہ نظامِ ہضم کو فعال کر کے دن کے آغاز کو پرانرجی بناتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جسم اور دماغ کو بیدار اور فعال رکھنے میں ہائیڈریشن انتہائی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ جسم میں سیال مادوں کی کمی دماغ کی طرف خون کی گردش کو متاثر کرتی ہے، جس سے ذہنی تھکاوٹ، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی اور عدمِ توجہ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
ایک طبی تحقیق کے مطابق 12 گھنٹے تک پانی نہ پینے والے نوجوانوں میں یادداشت اور ردِعمل دینے کی رفتار سست دیکھی گئی، جبکہ جن افراد نے رات کو سونے سے قبل اور صبح نہار منہ تقریباً دو کپ (500 ملی لیٹر) پانی پیا، ان کی اعصابی بیداری اور ردِعمل کی رفتار میں واضح بہتری آئی۔
نظامِ ہضم اور قبض کا علاج
صبح نہار منہ پانی پینا معدے اور آنتوں کو دن بھر کی خوراک کے لیے تیار کرتا ہے۔ پانی خوراک اور فضلے کو ہاضمے کی نالی میں آسانی سے آگے منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی کے باعث فضلہ سست روی سے آگے بڑھتا ہے جس سے قبض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو افراد مناسب مقدار میں پانی اور پانی سے بھرپور غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، ان میں قبض کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے۔ ہاضمے کے عمل کے دوران چھوٹی آنت خون کی نالیوں سے پانی حاصل کر کے خوراک کو تحلیل کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ صبح پانی پینے سے رفعِ حاجت کے نظام میں بہتری آتی ہے۔
پانی کی درکار مقدار اور روزمرہ کا معمول
طبی ماہرین کے مطابق بالغ خواتین کو روزانہ مجموعی طور پر تقریباً 11.5 کپ اور مردوں کو 15.5 کپ سیال مادوں کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں سے خوراک (پھل، سبزی، سوپ) کے علاوہ تقریباً 9 کپ پانی خواتین اور 13 کپ پانی مردوں کو الگ سے پینا چاہیے۔
صبح کے وقت 1 سے 2 گلاس (8 سے 16 اونس) پانی پینا بہترین شروعات ہے۔ ایک ہی وقت میں بہت زیادہ پانی پی لینا نامناسب اور ناگواری کا سبب بن سکتا ہے۔
عام سائنسی غلط فہمیاں اور حقیقت:تحقیق میں صبح نہار منہ پانی سے متعلق چند عام مفروضوں کی تردید کی گئی ہے:
گرم پانی اور میٹابولزم: گرم پانی پینے سے میٹابولزم تیز ہونے کے حوالے سے کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔
ٹھنڈا پانی اور ہاضمہ: ٹھنڈا پانی ہاضمے پر منفی اثر نہیں ڈالتا؛ عام اور ٹھنڈا پانی جسم کو یکساں طور پر ہائیڈریٹ کرتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ پانی: حد سے زیادہ پانی پینے سے اضافی صحت کے فوائد حاصل نہیں ہوتے، بلکہ بعض صورتوں میں جسم میں سوڈیم کا توازن بگڑ سکتا ہے۔
ماہرینِ صحت نے ہدایت کی ہے کہ گردے یا دل کے عارضے میں مبتلا افراد معالج کی ہدایت کے مطابق پانی کی مقدار طے کریں۔ عام افراد کے لیے پیشاب کا رنگ پانی کی ضرورت بتاتا ہے؛ ہلکا زرد رنگ مناسب ہائیڈریشن کی علامت ہے جبکہ گہرا رنگ مزید پانی پینے کی نشاندہی کرتا ہے۔









