یوکرین(Ukraine) میں روسی ڈرون نے پولینڈ کی سرحد کے قریب ایک ٹرین کو نشانہ بنایا حملہ سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور دیگر اعلیٰ یورپی سیکیورٹی حکام کے اسی ریلوے روٹ سے گزرنے کے کچھ دیر بعد کیا گیا۔
یوکرینی حکام کے مطابق یاہودین کے مقام پر ڈرون حملے میں ٹرین کے انجن کو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تمام مسافروں کو بحفاظت ٹرین سے اتار لیا گیا۔
یوکرین کی سرکاری ریلوے کمپنی کے مطابق حملے کا ہدف ممکنہ طور پر سفارتی ٹرین بھی ہوسکتی تھی کیونکہ بورس جانسن برطانوی سیکیورٹی مشیر جوناتھن پاول اور دیگر یورپی حکام کیف میں کانفرنس کے بعد اسی ریلوے لائن سے واپس روانہ ہوئے تھے۔
ریلوے حکام کے مطابق حملے سے صرف 15 منٹ قبل متاثرہ ٹرین کے مسافروں کو انخلا کا حکم دیا گیا تھا جبکہ روس نے حملے میں مغربی یوکرین کے ریلوے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:72 سالہ ملائیشین فٹبال لیجنڈ کی اپنی عمر سے 50 سال چھوٹی لڑکی سے شادی
یوکرینی اور پولش حکام کے مطابق روسی ڈرون نے پولینڈ کی سرحد سے صرف 2 کلومیٹر دور حملہ کیا۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ سابق سی آئی اے سربراہ ڈیوڈ پیٹریئس بھی حملے کے وقت یاہودین اسٹیشن پر ایک دوسری ٹرین میں موجود تھے۔
سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے روسی حملے کو بے مقصد اور بے معنی قرار دیتے ہوئے یوکرین کے لیے مزید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
یوکرینی وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے حملے کو وحشیانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا دہشت گردی کا پیغام براہ راست یورپی یونین اور نیٹو کے دروازے تک پہنچ رہا ہے۔
دوسری جانب پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے کہا کہ روسی کارروائیوں میں شدت حقیقت بن رہی ہے اور یہ خطرہ پولینڈ کی سرحد کے مزید قریب پہنچتا جارہا ہے۔









