بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے 6 بدنصیب بیٹسمین جو اپنی ٹیم کی وجہ سے سنچری مکمل نہ کر سکے

ٹیسٹ کرکٹ(Test Cricket) میں سنچری بنانا ہر بلے باز کا خواب ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی صرف ایک رن کی دوری بھی ناقابل یقین مایوسی میں بدل جاتی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

تصور کریں بلے باز 99 رنز پر ناٹ آؤٹ کھڑا ہے سنچری کے لیے صرف ایک رن درکار ہے مگر اگلی ہی گیندوں میں ساتھی بلے باز کی وکٹ گرتی ہے اور پوری ٹیم آل آؤٹ ہوجاتی ہے۔ یوں سنچری کے قریب پہنچنے کے باوجود ریکارڈ بک میں 100 کے بجائے 99 ناٹ آؤٹ لکھا جاتا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں صرف چھ ایسے بلے باز گزرے ہیں جو اپنی ٹیم کی آخری وکٹ گرنے تک 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے اور ایک رن کی کمی کے باعث سنچری سے محروم ہوگئے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اس منفرد اور بدقسمت فہرست میں جنوبی افریقا کے اینڈریو ہال کا نام نمایاں ہے۔ 21 اگست 2003 کو انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلے ٹیسٹ میں ہال نے شاندار اننگز کھیلی لیکن جنوبی افریقا کی پہلی اننگز 365 رنز پر ختم ہوگئی۔ ہال 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے اور سنچری ان سے صرف ایک رن دور رہ گئی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

جنوبی افریقا کے سابق عظیم آل راؤنڈر شان پولاک بھی اسی صورتحال کا شکار ہوچکے ہیں۔ 15 نومبر 2002 کو سری لنکا کے خلاف سپر اسپورٹ پارک ٹیسٹ میں پولاک نے 99 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 448 رنز بنائے لیکن ٹیم کی آخری وکٹ گرنے کے ساتھ ہی پولاک کی سنچری کا خواب بھی ادھورا رہ گیا۔

آسٹریلیا کے لیجنڈری کپتان اسٹیو وا کے کیریئر میں بھی یہ عجیب واقعہ پیش آیا۔ 3 فروری 1995 کو انگلینڈ کے خلاف واکا گراؤنڈ ٹیسٹ میں وا 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ آسٹریلیا کی پہلی اننگز 402 رنز پر اختتام پذیر ہوئی اور عظیم بلے باز صرف ایک رن کی کمی کے ساتھ پویلین لوٹے۔

مزیدپڑھیں:پیٹرول 4 روپے 10 پیسے اور ڈیزل 6 روپے 41 پیسے مہنگا، نوٹیفکیشن جاری

پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق بھی اس بدقسمت کلب کا حصہ ہیں۔ 21 اپریل 2017 کو ویسٹ انڈیز کے خلاف سبینا پارک ٹیسٹ میں مصباح نے 99 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ پاکستان کی پہلی اننگز 407 رنز پر ختم ہوئی اور مصباح ایک رن کے فاصلے پر رہ کر سنچری سے محروم ہوگئے۔

انگلینڈ کے مشہور بلے باز جیفری بائیکاٹ کے ساتھ بھی ٹیسٹ کرکٹ نے یہی کھیل کھیلا۔ 14 دسمبر 1979 کو آسٹریلیا کے خلاف واکا گراؤنڈ میں بائیکاٹ 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

انگلینڈ کی اننگز 215 رنز پر سمٹ گئی اور بائیکاٹ کی شاندار اننگز سنچری کے بجائے 99 ناٹ آؤٹ کے طور پر یاد رکھی گئی۔

اس فہرست میں نسبتاً حالیہ نام انگلینڈ کے جونی بیئرسٹو کا ہے۔ 19 جولائی 2023 کو آسٹریلیا کے خلاف ایشز کے مانچسٹر ٹیسٹ میں بیئرسٹو نے 99 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 592 رنز کا بڑا مجموعہ بنایا، مگر ٹیم کی آخری وکٹ گرنے کے بعد بیئرسٹو بھی 99 رنز پر ہی ناٹ آؤٹ رہ گئے۔

یہ 6 واقعات ٹیسٹ کرکٹ کے ان نایاب لمحات میں شامل ہیں جہاں بلے باز نے اپنی وکٹ تو بچالی مگر قسمت نے سنچری کے لیے درکار صرف ایک رن بھی نہ دیا۔

ان اننگز کی خاص بات یہی ہے کہ کھلاڑی آؤٹ ہوئے بغیر بھی سنچری مکمل نہ کرسکے اور 99 ناٹ آؤٹ کا ایسا ریکارڈ بنا گئے جسے شاید وہ خود بھی اپنی سنچریوں سے زیادہ کبھی نہیں بھول پائیں گے۔