امریکی ریاست فلوریڈا (Florida)میں کچے یا نیم پکے سیپ کے استعمال سے عام طور پر منسلک خطرناک بیکٹیریا وائبریو وَلنیفیکس سے رواں سال چوتھی ہلاکت ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ صحت فلوریڈا کے مطابق تازہ ہلاکت جمعرات کو جاری کیے گئے اعداد و شمار میں شامل کی گئی ہے۔
ہلاک ہونے والے شخص کا تعلق بروورڈ کاؤنٹی سے تھا اور اس کی عمر 75 سے 79 سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ متاثرہ شخص کو بیکٹیریا کا انفیکشن کس ذریعے سے ہوا۔
محکمہ صحت کے مطابق اس سے قبل ہونے والی 3 ہلاکتیں بے کاؤنٹی، پام بیچ کاؤنٹی اور میریون کاؤنٹی کے رہائشیوں کی تھیں۔
A fourth person has died in Florida after contracting virulent bacteria that can cause a flesh-eating infection — commonly linked to eating raw seafood.
— BenGay 🇺🇸🦅🌈🌊🌊 VOTE Democrat (@BenGay1121) September 10, 2026
فلوریڈا محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ وائبریوسس کے زیادہ تر کیسز کچی یا نیم پکی سمندری حیات، خصوصاً سیپ، کھانے سے سامنے آتے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق 2026 میں اب تک ریاست میں وائبریو وَلنیفیکس کے 21 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
یہ بیکٹیریا گرم اور نمکین و میٹھے پانی کے امتزاج والے سمندری پانی میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔
انسان اس وقت بھی متاثر ہوسکتا ہے جب وہ بیکٹیریا سے آلودہ سیپ کھائے یا کسی کھلے زخم کے ساتھ آلودہ پانی میں داخل ہو۔
فلوریڈا کے محکمہ صحت کے مطابق وائبریو وَلنیفیکس سے خون میں پھیلنے والے شدید انفیکشن تقریباً 50 فیصد کیسز میں جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔
صحت مند افراد میں عموماً بیماری کی شدت کم ہوتی ہے، تاہم کمزور مدافعتی نظام یا بعض پہلے سے موجود طبی مسائل رکھنے والے افراد میں انفیکشن سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے۔
Florida registra una cuarta muerte por Vibrio vulnificus, bacteria que puede causar infecciones graves. El estado suma 20 casos este año.
La víctima más reciente era residente de Broward County y tenía entre 75 y 79 años. La bacteria puede transmitirse por mariscos crudos. 11/09 pic.twitter.com/XhVEsJoIJK
— Asi Veo Las Cosas (@_asiveolascosas) September 12, 2026
محکمہ صحت کے مطابق ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ بعض پہلے سے موجود طبی مسائل کے شکار افراد میں وائبریو وَلنیفیکس کے خون میں پھیلنے والے انفیکشن کا خطرہ صحت مند افراد کے مقابلے میں 80 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔
شدید انفیکشن کی علامات میں بخار، کپکپی، بلڈ پریشر میں کمی، جسے سیپٹک شاک کہا جاتا ہے، اور جلد پر چھالے یا زخم شامل ہوسکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:میڈیکل یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرری، پنجاب نے نئی شرط عائد کر دی
بعض صورتوں میں زخم کا انفیکشن جسم کے ٹشوز کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور متاثرہ عضو کاٹنے کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔
فلوریڈا میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران 2022 اور 2024 میں اس بیکٹیریا کے کیسز اور اموات کی تعداد نسبتاً زیادہ رہی۔
2024 میں ریاست میں 82 کیسز اور 19 اموات جبکہ 2022 میں 74 کیسز اور 17 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔
حکام کے مطابق ان برسوں میں بعض کاؤنٹیز میں آنے والے سمندری طوفان ہیلین اور ایان کے اثرات اور سیلابی یا کھڑے پانی کی موجودگی نے بھی بیکٹیریا سے متاثر ہونے کے خطرے میں اضافہ کیا تھا۔
شدید موسمی حالات کے نتیجے میں جمع ہونے والا یا سیلابی پانی انسانوں کو بیکٹیریا کے ممکنہ پھیلاؤ کے سامنے لاسکتا ہے۔
خلیج میکسیکو کے ساحلی علاقے میں واقع دیگر ریاستوں میں بھی رواں سال اس بیکٹیریا کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ لوزیانا میں 9 ستمبر تک 15 کیسز اور 6 اموات رپورٹ ہوچکی تھیں، جن میں سے 14 کیسز زخم یا سمندری پانی سے رابطے سے منسلک تھے۔
ٹیکساس محکمہ صحت کے مطابق ریاست میں عام طور پر سالانہ اوسطاً 33 کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ مسی سپی میں اگست تک 3 کیسز سامنے آچکے تھے۔









