سمرقند: پاکستان نے حکومتی پالیسی کے تحت اسرائیل کے خلاف شطرنج کا میچ کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے بائیکاٹ کردیا۔
ازبکستان کے شہر سمرقند میں اولمپیاڈ سمرقند 2026 جاری ہے، جس میں پاکستان سمیت کئی ممالک کی ٹیمیں شریک ہیں۔ پاکستان نے اپنی پالیسی کے تحت اسرائیل کے خلاف شطرنج کے میچ سے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔
پاکستان اور اسرائیل کے درمیان شطرنج کا مقابلہ آج شیڈول تھا، تاہم پاکستان نے حکومتی پالیسی کے تحت اسرائیلی ٹیم کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
صدر چیس فیڈریشن آف پاکستان ذیشان علی نقوی نے کہا کہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کی واضح پالیسی ہے، اس لیے حکومتی پالیسی کے خلاف اسرائیل سے میچ نہیں کھیل سکتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے کیا گیا ہے۔
پاکستان کے چار کھلاڑیوں کو پہلے راؤنڈ میں اسرائیل کے چار کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا تھا، تاہم پاکستانی کھلاڑیوں کے کھیلنے سے انکار کے نتیجے میں اسرائیلی ٹیم کو واک اوور مل گیا۔
واضح رہے کہ ازبکستان میں منعقدہ شطرنج کے عالمی ایونٹ میں دنیا بھر سے 203 ممالک کی ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔
سمرقند اولمپیاڈ میں پاکستانی شطرنج ٹیم کی رینکنگ غالباً سب سے نیچے چلی گئی ہے۔ یہ چیس اولمپیاڈ ’’سوئس سسٹم‘‘ کے تحت کھیلا جاتا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ پہلے راؤنڈ میں ہارنے کی وجہ سے پاکستان کا اگلا میچ دوسرے راؤنڈ میں کسی ایسی ہی ٹیم سے ہوگا جو اپنا پہلا میچ ہار چکی ہوگی۔
پاکستان ٹورنامنٹ سے باہر نہیں ہوا، وہ اگلے راؤنڈز کھیل سکتا ہے۔
پاکستانی شطرنج ٹیم کی عالمی سطح پر پوزیشن
پاکستان کی شطرنج ٹیم کی بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی ریٹنگز دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ پاکستانی ٹیم کے ٹاپ کھلاڑیوں، جیسے کہ ایف ایم تنویر گیلانی کی کلاسیکل فائیڈ (ایف آئی ڈی ای) ریٹنگ عام طور پر 2000 سے 2250 کے درمیان ہوتی ہے، جبکہ باقی کھلاڑی رینکنگ میں اس سے بھی پیچھے ہیں۔
چیس اولمپیاڈ میں مجموعی طور پر 180 سے زائد ممالک شرکت کرتے ہیں اور پاکستان کی ابتدائی سیڈنگ عام طور پر 100 سے نیچے ہوتی ہے۔
اس ٹورنامنٹ میں پہلے راؤنڈ میں اسرائیل کو واک اوور دینے کی وجہ سے پاکستان کو 4-0 کی تکنیکی شکست ہوئی ہے۔
پاکستان اب دوسرے راؤنڈ میں اپنے ہی جتنے پوائنٹس، یعنی صفر پوائنٹس، والی کسی کم ریٹنگ کی ٹیم سے کھیلے گا۔
پاکستان کے پاس اگلے راؤنڈز جیت کر مڈل ٹیبل میں اچھی پوزیشن حاصل کرنے کے امکانات اب بھی موجود ہیں، لیکن وہ ٹاپ 20 یا 30 پوزیشنز کی دوڑ سے باہر رہے گا۔









