لاہور ہائیکورٹ نے کرکٹر محمد رضوان کی این سی سی آئی اے نوٹس کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔ محمد رضوان عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ان کے وکیل عمیر قاضی عدالت میں موجود تھے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے محمد رضوان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو حقائق چھپانے پر بھاری جرمانہ ہونا چاہیے، آپ نے طلبی نوٹس کو چیلنج کیا، آپ شوکاز نوٹس کا جواب دیں۔
محمد رضوان نے طلبی کیخلاف دائر درخواست میں نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے دائرہ اختیار اور تحقیقات کی نوعیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ این سی سی آئی اے نے بلاجواز طلبی کے نوٹس جاری کیے۔
محمد رضوان کے مطابق پیشی کے دوران بار بار غیر قانونی سرگرمیوں پر عائد الزامات کی تفصیلات سے متعلق پوچھا گیا لیکن پیشی پر میرے کسی سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔
محمد رضوان نے درخواست میں موقف اپنایا کہ این سی سی آئی اے کسی نامعلوم الزام کی تحقیقات کیوں کر رہا ہے؟ عدالت سے درخواست ہے کہ حتمی فیصلے تک این سی سی آئی اے کی کارروائی روکنے کا حکم دیا جائے۔
واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے محمد رضوان اور امام الحق کو سوالنامہ دیا تھا، دونوں کھلاڑیوں کو 15 ستمبر تک سوالنامے کے جوابات جمع کرانے تھے۔ جس کے بعد امام الحق نے سوالنامے کے جوابات جمع کرا دیئے۔
نجی چینل نے گزشتہ روز ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ محمد رضوان نے بھی این سی سی آئی اے کو بذریعہ کورئیر جواب ارسال کر دیا ہے۔
محمد رضوان کی جانب سے این سی سی آئی اے کو بھیجے گئے جواب میں سوالات اٹھائے گئے کہ آپ نے مجھے بلایا کیوں تھا؟ میرا موبائل ابھی تک واپس کیوں نہیں کیا گیا؟ میں نے کون سے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے بتایا جائے؟
دوسری جانب این سی سی آئی اے کے ذرائع نے بتایا تھا کہ پی سی بی کی شکایت پر دونوں کرکٹرز سے ان کے موبائل فون ان لاک کرائے جائیں گے۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران ڈریسنگ روم لیکس سے متعلق تفتیش کی جائے گی۔
پی سی بی کے میڈیا ڈائریکٹر عامر میر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ بورڈ نے ڈسپلن اور کنڈکٹ سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد تادیبی تحقیقات شروع کی ہیں۔
عامر میر کے مطابق پی سی بی ایسے معاملات کو اپنے معمول کے طریقہ کار کے مطابق دیکھتا ہے اور تحقیقات بورڈ کے ضوابط کے تحت کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل، عباس عراقچی ٹیلیفونک رابطہ، اہم امور پر تبادلہ خیال، ایرانی سرکاری میڈیا
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انگلینڈ کے دورے میں دونوں کھلاڑیوں کے ڈسپلن اور رویے سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد انکوائری شروع کرکے ان کے موبائل فون این سی سی آئی اے کے حوالے کیے تھے۔









