اعجاز ستی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے جانے والے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ، تحریک انصاف
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کو گرفتاری کے بعد رہا کر دیا گیا۔ انہیں اسلام آباد کے علاقے نیلور سے گرفتار کیا گیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ انہیں لطاف حسین ستی، اخلاق ستی اور دیگر ساتھیوں سمیت چار گھنٹے تک غیرمنصفانہ طور پر حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا۔
سلمان اکرم راجا نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں رکھنے کا واحد مقصد مرحوم اعجاز ستی کی نماز جنازہ میں شرکت سے روکنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ چار گھنٹے کی حراست کے بعد انہیں لطاف حسین ستی، اخلاق ستی اور دیگر ساتھیوں سمیت رہا کردیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل نے الزام عائد کیا کہ عوام کے خوف نے فیصلہ سازوں سے عقل اور سمجھ چھین لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔
سلمان اکرم راجا نے اپنی رہائی کے بعد خیرخواہی اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والے دوستوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
قبل ازیں ترجمان اپوزیشن حسین احمد یوسفزئی نے ہم ڈیجیٹیل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کو دیگر رہنماؤں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا، وہ پارٹی کارکن اعجاز ستی کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں ڈالیں اور متعدد افراد کو حراست میں لیا۔
پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعجاز ستی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے جانے والے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق پارٹی کارکن اعجاز ستی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے کوٹلی ستیاں جا رہے تھے کہ اس دوران پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا، میرہ کوٹلی ستیاں سے رکن قومی اسمبلی اور پارٹی کے نمائندے لطاسب ستی سمیت دیگر افراد کو پولیس نے حراست میں لے کر اسلام آباد کے نیلور پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے اس کے کارکن اعجاز ستی کو شہید کیا گیا اور اب لوگوں کو ان کی نماز جنازہ میں شرکت سے روکنے کے لیے گرفتاریاں اور مبینہ اغوا کیے جا رہے ہیں۔
پارٹی نے رہنماؤں کی حراست کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے کارکنوں اور رہنماؤں کو جنازے میں شرکت سے روکا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک پر مسلط کیا گیا ’’مافیا‘‘ اخلاقیات سے عاری ہے اور اقتدار کے نشے میں اسلامی اصول بھی فراموش کرچکا ہے۔
تاہم، پی ٹی آئی کے بیان میں پولیس کی جانب سے سلمان اکرم راجا، لطاسب ستی اور دیگر افراد کو حراست میں لینے کی قانونی وجہ یا ان کے خلاف کسی مقدمے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس بارے میں پولیس کی جانب سے ابھی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی پنجاب کے ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری شوکت بسرا نے بھی ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ اعجاز ستی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں اسلام آباد پولیس نے انہیں روک لیا۔
سلمان اکرم راجا کی گرفتاری پر بیرسٹر گوہر کا ردعمل
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو پولیس نے حراست میں لے رکھا ہے اور وہ گزشتہ دو گھنٹے سے پولیس اسٹیشن میں موجود ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں ایڈووکیٹ شوکت بسرا کے ذریعے اطلاع ملی ہے کہ پولیس نے سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا ہے، انہوں نے پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند روز کے دوران تقریباً 700 پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ ارکان قومی اسمبلی اور ارکان صوبائی اسمبلی کے خلاف بھی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:پیٹرول ریلیف سکیم، سٹیٹ بینک ضامن، حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز مذاکرات کامیاب
بیرسٹر گوہر نے ان کارروائیوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ’’ایک ریاست، دو دستور نامنظور‘‘۔









