اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے سزا معطلی کی اپیل کی جلد سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا۔
وفاقی آئینی عدالت میں بشریٰ بی بی کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کی گئی۔ جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھوں کی بیماری دوبارہ لاحق ہو گئی ہے جبکہ جیل میں علاج کی سہولیات بھی ناکافی ہیں۔
انہوں نے درخواست میں وضاحت کی کہ مزید تاخیر سے ان کی باقی ماندہ بینائی اور مجموعی صحت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ 54 سالہ خاتون بشریٰ بی بی سابق خاتون اول ہیں اور اڈیالہ جیل میں 7 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ انہیں 17 جنوری 2025 کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں 7 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بشریٰ بی بی کو نیب آرڈیننس کے تحت معاونت، مدد اور اکسانے کے الزام میں سزا سنائی گئی، جبکہ سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر ہونے کی منتظر ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے مفاد میں بشریٰ بی بی کی اپیل کو 21 ستمبر 2026 سے شروع ہونے والے ہفتے میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ طویل اور غیر واضح تاخیر سے انہیں پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہے اور مزید تاخیر ان کی صحت کے لیے خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
درخواست میں وضاحت کی گئی کہ سزا معطلی کی اپیل کی جلد سماعت کا معاملہ صرف تاخیر سے متعلق ہے اور اس مرحلے پر مرکزی اپیل کے میرٹ پر تفصیلی غور کی ضرورت نہیں۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت نے جنوری 2025 میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
190 ملین پاؤنڈ کیس (القادر ٹرسٹ کیس) سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے متعلق ایک بڑا نیب اسکینڈل اور عدالتی مقدمہ ہے۔
برطانیہ کی قومی کرائم ایجنسی (این سی اے) کی طرف سے پاکستان کو ملنے والے 190 ملین پاؤنڈز (تقریباً 50 ارب روپے) سرکاری خزانے میں جمع ہونے کے بجائے مبینہ طور پر سپریم کورٹ کے ایک مخصوص اکاؤنٹ میں ایڈجسٹ کیے گئے تھے۔
اس رقم کے بدلے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان کو قانونی ریلیف فراہم کیا گیا، اور اس کے عوض القادر ٹرسٹ کے نام پر اربوں روپے مالیت کی اڑھائی سو سے زائد کنال زمین حاصل کی گئی۔
نیب نے الزام عائد کیا کہ اس ڈیل سے قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچا اور عمران خان اور ان کی اہلیہ نے بطور وزیراعظم اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔
مزید پڑھیں:پاکستان اور عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 18 دسمبر 2024 کو اڈیالہ جیل میں فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کو 14 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے القادر یونیورسٹی کو بھی سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا تھا۔









