بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نئے صوبوں کا قیام: قومی سطح پر 76 فیصدنوجوانوں کی حمایت کا انکشاف، پبلک ریسرچ رپورٹ جاری

اسلام آباد: دی انسٹی ٹیوٹ آف ان سائٹس اینڈ امپیکٹ(The Institute of Insights and Impact)نےنئے صوبوں کے قیام سے متعلق نوجوانوں کے رجحانات پر مبنی ایک جامع پبلک ریسرچ رپور ٹ جاری کیہے۔

اس سروے میں پنجاب میں نئے صوبوں کے حق میں سب سے مضبوط توازن پایا گیا ہے جہاں 78.6 فیصد حمایت اور 21.4 فیصد مخالفت ریکارڈ کی گئی۔ پنجاب کے رحیم یار خان، جھنگ، سیالکوٹ، سرگودھا اور دیگر سات اضلاع میں حمایت کی شرح 90/10 کے ساتھ سب سے زیادہ رہی، جبکہ سب سے زیادہ مقابلہ لیہ (62/38) اور راولپنڈی (73/27) میں دیکھا گیا۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں بھی حمایت کا غلبہ رہا جہاں 75.3 فیصد نوجوانوں نے نئے صوبوں کی حمایت اور 24.7 فیصد نے مخالفت کی۔ یہاں ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، کوہاٹ اور خیبر میں حمایت 90/10 تک رہی جبکہ شانگلہ اور چارسدہ میں یہ شرح 56/44 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ متنازع رہی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نئے صوبوں کے قیام کے حق میں 74 فیصد اور مخالفت میں 26 فیصد آراء سامنے آئیں۔

بلوچستان میں انتظامی فاصلے اور خدمات تک رسائی کی وجوہات کی بنا پر 71.3 فیصد حمایت اور 28.7 فیصد مخالفت ریکارڈ کی گئی۔ کوئٹہ، چمن، قلعہ عبداللہ اور پشین میں حمایت نمایاں رہی، جبکہ حب میں مخالفت کا پلڑا بھاری رہا جہاں تناسب 42/58 اور قلات ڈویژن میں 46/54 رہا۔ بڑے صوبوں میں سندھ کا خطہ سب سے زیادہ متنازع اور منقسم رہا جہاں 59.3 فیصد حمایت اور 40.7 فیصد مخالفت دیکھی گئی۔ سندھ کے حیدرآباد اور کراچی کے اضلاع میں حمایت (68/32 سے 80/20) رہی جبکہ لاڑکانہ (42/58)، گھوٹکی (44/56) اور دادو (47/53) میں مخالفت آگے رہی۔

گلگت بلتستان میں 41 فیصد حمایت اور 59 فیصد مخالفت کے ساتھ ملا جلا رجحان سامنے آیا، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں مخالفت کا تناسب زیادہ رہا جہاں صرف 36 فیصد حمایت جبکہ 64 فیصد مخالفت ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب (79%) اور آزاد جموں و کشمیر (36%) کے درمیان اس رائے کا فرق قومی سطح پر سب سے چوڑا فاصلہ قرار دیا گیا ہے۔