اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر خیبر پختونخوا اختیار ولی کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم نے واشگاف الفاظ میں پوری امت مسلمہ اور فلسطین کا مقدمہ لڑا ہے، جبکہ اس موقع پر پی ٹی آئی کی سیاسی کمزوری اور حکمت عملی پر بھی سخت تنقید کی گئی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے دنیا کے سامنے واشگاف الفاظ میں پوری امت مسلمہ اور فلسطین کا مؤثر مقدمہ لڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں وزیراعظم کی اس تاریخی تقریر کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے اور فلسطینی نمائندوں نے بھی دل کھول کر اس کی داد دی ہے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے لیے ہمارے جذبات محض زبانی کلامی جمع خرچ نہیں بلکہ عملی طور پر سب کے سامنے ہیں، کیونکہ حکومت کی جانب سے مصیبت کی اس گھڑی میں فلسطینی بھائیوں کے لیے باقاعدہ امدادی سامان بھی بھجوایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے فلسطین کے طلباء کی میڈیکل تعلیم کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے اور آج بڑی تعداد میں فلسطینی طلباء پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ہر فورم پر فلسطین کا مقدمہ لڑا اور ببانگِ دہل اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کی۔
پریس کانفرنس کے دوران ملکی سیاسی صورتحال اور تحریک انصاف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی آنے والے احتجاج یا مارچ کے حوالے سے کوئی تیاری نہیں تھی، اور 27 ستمبر کے مارچ کی تاریخ بھی انہوں نے خود ہی دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف تاریخ میں اتنی کمزور کبھی نہیں ہوئی جتنی آج ہو چکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس جماعت کا دہشتگردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ واضح ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ دہشتگردوں کی کھلے بندوں مذمت کرنے سے بھی گریزاں ہیں۔ وزیر اطلاعات نے زور دے کر کہا کہ ہماری پولیس اور بہادر سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر عظیم قربانیاں دے رہی ہیں، اور ہم ڈنکے کی چوٹ پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ملک سے دہشتگردوں کا مکمل اور جڑ سے خاتمہ کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس کے آخر میں تحریک انصاف کی اندرونی سیاست اور رہنماؤں پر بات کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سہیل خان آفریدی تحریک انصاف کے اندر اپنی سیاسی ساکھ مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔ ان کی بزدلی اور سیاسی نااہلی اب سب پر عیاں ہو چکی ہے اور ان کے پلے اب کچھ نہیں بچا۔ انہوں نے کہا کہ اس سیاسی جماعت اور اس کے رہنماؤں کی اتنی خستہ حالی اور سیاسی کمزوری پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔









