بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ڈی آئی خان: چیک پوسٹ کے قریب مبینہ خودکش دھماکا، 12 افراد جاں بحق

ڈیرہ اسماعیل خان(Dera Ismail Khan) کے علاقے درازندہ میں امن میلہ جوائنٹ چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش حملے کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے، دھماکے کے بعد پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ڈیرہ اسماعیل خان نے بتایا ہے کہ درازندہ امن میلہ چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا ہوا، جس کے بعد علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق جبکہ تیس سے زائد زخمی ہوئے۔

ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے تقریباً 90 کلومیٹر دور درازندہ امن میلہ جوائنٹ چیک پوسٹ کو مبینہ طور پر فتنہ الخوارج کے خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا۔

ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ڈیرہ اسماعیل خان غلام مبشر کے مطابق دھماکے میں پاک فوج اور پولیس کا کوئی اہلکار جاں بحق نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں 9 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے، جبکہ ایک کسٹمز اہلکار سمیت متعدد شہری بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

آر پی او کے مطابق 25 زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی اور اسپتالوں میں منتقلی کا عمل جاری ہے۔

جبکہ ریسکیو 1122 کے مطابق اب تک 30 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے اسپتال منتقل کیا جاچکا ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں بھی جائے وقوع سے برآمد کرلی گئی ہیں۔

مزیدپڑھیں:انجینئر امیر مقام کی لاہور میں حمزہ شہباز سے ملاقات، سیاسی صورتحال اور کے پی کے ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال

دوسری جانب دھماکے میں زخمی ہونے والے شہریوں کو درازندہ سے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر فتنہ الخوارج کی جانب سے ایمبولینس پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں 3 ریسکیو اہلکار شہید ہوگئے۔ ایمبولینس دھماکے کے زخمی شہریوں کو درازندہ سے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کررہی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق امن میلہ چیک پوسٹ پر دھماکے کے بعد پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کی بھاری نفری اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امن میلہ کی جانب جانے والی پولیس پر بھی نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ذوہیب نامی سپاہی زخمی ہوگیا۔ فائرنگ کے بعد پولیس کی مزید بھاری نفری جائے وقوع کی جانب روانہ کردی گئی۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن شروع کردیا گیا۔ فائرنگ کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق امن میلہ چیک پوسٹ دھماکے کی نوعیت اور نقصانات سے متعلق مزید معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں، جبکہ واقعے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والے مبینہ خودکش حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی۔

صدر نے متعلقہ اداروں کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ڈی آئی خان میں چیک پوسٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے محافظوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی اور حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

محسن نقوی نے دھماکے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف پختہ عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی ڈی آئی خان دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔